Category: سوات ویلی

سوات کا تاریخی سفید محل

وادی مرغزار مینگورہ کے جنوب میں 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔وائٹ پیلس کی تعمیر کا فیصلہ والی سوات میاں گل عبدالودود بادشاہ صاحب نے 1935 میں کیا اور 1941 میں تعمیر کا کام مکمل کرلیا گیا۔ آج یہاں ہر روز ملکی اور غیر ملکی سیاح ہزاروں کی تعداد میں آتے ہیں اور حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔  1920 اور30 میں سوات کے پہلے والی، میاں گل عبدالودود بادشاہ صاحب کلکتہ جا رہے تھے، راستے میں ان کا قیام راجستھان کے ایک راجہ کے ہاں ہوا۔ اب راجھستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر ریگستان زیادہ ہے، وہاں شدید گرمی کی وجہ سے سنگ مرمر کا استعمال...

Read More

ایلم کے پہاڑوں سے نکلنے والی ‘علی داد( چڑ کمر)’ آبشار

سوات ( مارننگ پوسٹ ) آبشاروں،دریاؤں،خوبصورت پہاڑوں اور بہتی جھرنوں کی سرزمین سوات کے سیاحتی مقامات کالام،مالم جبہ، مرغزار اور دیگرعلاقے تو سیاحوں کی توجہ کا مرکزبنے رہتے ہیں مگرسوات میں ایک خوبصورت وادی علی داد بھی ہے سوات کی یہ خوبصورت وادی جو سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہیں، یہاں کے گھنگناتے آبشار اور  بہتی ندیاں بہتر کل کی امید لئے ان دنوں میں بھی ٹھنڈک کا پیغام دے رہی ہیں۔وادی ایلم کے پہاڑوں سے نکلنے والی یہاں کی ابشار جو چڑ کمر آبشار کے نام سے مشہور ہے مقامی لوگ یہاں گرمیوں میں سیرو تفریح کے لئےاس...

Read More

سوات کے مشہور پہاڑوں کے بارے میں

سوات میں پہاڑوں کے مختلف نام ہیں جن میں سے ایک ’’گنہگار‘‘ ہے یہ پہاڑ ضلع سوات اور دیر کے درمیان سطح سمندر سے 15 ہزارفٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس پہاڑ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہاں سبز، سرخ ، سفید اور دیگر کئی رنگوں کی برف نظر آتی ہے جو سیاحوں کے لئے یقینا باعث حیرت اور دلچسپی ہے۔ اگرچہ عام طور پر برف سپید رنگ کی ہوتی ہے لیکن یہاں چوں کہ ہمیشہ برف جمی رہتی ہے اور بہت کم پگھلتی ہے، اس لئے اس کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔ یہ دل...

Read More

دوسری جنگِ عظیم اور ریاستِ سوات کا کردار

جلال الدین یوسف زئی برطانیہ نے1858ء میں برصغیر پر باضابطہ حکمرانی کا آغاز کیا۔ ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ سے اختیار تاجِ برطانیہ اور پارلیمنٹ کو منتقل ہوا۔ آنے والے کچھ عرصہ میں برطانوی اقتدار اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ تاہم عروج کی طرف یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ برطانیہ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا حصہ بننا پڑا۔ ان عالمی جنگوں کے دوران میں متحدہ ہندوستان کی مالی اور فوجی امداد برطانوی مہمات کے لیے انتہائی اہم اور فیصلہ کن تھی۔ متحدہ ہندوستان نے برطانیہ کی جنگی کوششوں میں بڑے پیمانے...

Read More

سنگر آبشار

عصمت علی اخون سوات کو مشرق کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے، لیکن کسی کی کہی یہ بات میری سوچ کے مطابق درست نہیں۔ کیوں کہ سوات بے شمار حسین دروں، دلکش جھیلوں، شور کرتی آبشاروں، لہلاتے کھیتوں، گھنے جنگلات اور اونچے پہاڑوں کی وجہ سے روئے زمین پر جنت کے ٹکڑے سے کم نہیں۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ سوات اس دنیا میں جنت کاایک ٹکڑا ہے۔ سیاحتی سیزن میں لاکھوں ملکی وغیر ملکی سیاح اس جنت نظیر وادی کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے ہیں، گرمیوں کے ساتھ سیاح سردیوں میں بھی برف باری کے...

Read More

سوات کے توروالی لوگ اور ان کی ثقافت

توروالی زبان سوات وادی کی قدیم زبانوں کی نشانی ہے جو ہند اریائی Indo-Aryan زبانوں کے ذیلی گروہ داردی Dardic زبانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ توروالی اور اس سے قریب تر زبانوں کے گروہ کو ’کوہستانی ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ توروالی زبان ضلع سوات کے حسین ترین علاقے سوات۔کوہستان میں بولی جاتی ہے۔ دنیا کے زبانوں کے بارے میں معلوماتی ویب سائیٹ اتھنولاگ Ethnologue کی رو سے توروالی زبان بولنے والوں کی تعداد ساٹھ اور اسّی ہزار (60,000—80,000 ) کے بیچ ہے۔ یہ ریکارڈ پرانہ ہے۔ اب ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ سے ایک لاکھ...

Read More

سوات کے مینگورہ شہر میں چند دن

عابد صدیق سوات ایک سابقہ ریاست تھی جسے 1970ء میں ضلع کی حیثیت دی گئی۔ ملاکنڈ ڈویژن اور ضلع سوات دنوں کا صدر مقام سیدو شریف ہے۔یہ منگورہ شہر سے صرف 6  منٹ کی مسافت پر ہے۔(شاید پہلے میں نے مینگورہ کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ سوات کا صدر مقام ہے جو غلط تھا۔)درحقیقت یہ جڑے ہوئے شہر ہیں اور لوگ مینگورہ کو ہی صدر مقام سمجھتے ہیں۔ سوات کو خیبر پختونخوا ہ کے شمالی خطے میں امتیازی حیثیّت حاصل ہے۔یہ ضلع سنٹرل ایشیاء کی تاریخ میں علمِ بشریات اور آثارِ قدیمہ کے لیے مشہور ہے۔ بدھ...

Read More

سیدو شریف سوات کا جدید ترین شہر

فضل ربی راہی سیدو شریف سوات کا جدید ترین شہر ہے جو منگورہ سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سیدو شریف منگورہ کے ساتھ کچھ اس طرح سے جڑا ہوا ہے کہ دونوں کا تعین کرنا بہت مشکل ہے بلکہ منگورہ اور سیدو شریف بالکل دو  جڑواں شہر معلوم ہوتے ہیں۔ تاہم منگورہ کا خوب صورت اور کشادہ گراسی گراؤنڈ دونوں شہروں کے مابین مرکزِ اتصال تصور کیا جا سکتا ہے۔ 1957ء میں جب پہلی دفعہ وادئ سوات میں بلدیہ وجود میں لائی گئی تو منگورہ اور سیدو شریف دونوں کو ایک ہی بلدیہ کی حدود...

Read More

سوات میں رام تخت اور ایلم کی چھوٹی

سوات میں رام تخت ہندووں کا سب سے مقدس مقام ہے جو کشمیر میں امر ناتھ غار کے بعد دوسری مقدس اور اہم جگہ مانی جاتی ہے۔ رام تخت ایلم چھوٹی کے اوپر تقریبا 9 ہزار دو سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ جسے مقامی زبان میں جوگیانو سر کہتے ہیں ،ہندووں کا عقیدہ ہے کہ مہاراجہ رام چندر جی نے یہاں تین سال بن باس میں گزارے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہندو اور سکھ ہر سال ساون کے پہلے دن یہاں تہوار منانے کے لئے آتے تھے،آرکیالوجی کے ماہر جناب زڑہ ور خان کے مطابق...

Read More