Category: بلاگز

کورونا اور تعلیمی ادارے

اختر حسین قارئین! ہر پاکستانی بچے کو تعلیم دینا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے حکمران جماعت کے لیڈرز اور خاص کر عمران خان پچھلے ادوار کے حکمرانوں پر الزامات لگا لگا کر تھکتے نہیں تھے کہ ”دہائیوں سے یہ لوگ پاکستان پر قابض ہیں، لیکن حالات خراب سے خراب تر بنتے جا رہے ہیں۔“ حقیقت کیا ہے، یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن لوگوں نے ان حکمرانوں سے بے زار ہوکر خاں صاحب پر یقین کرتے ہوئے ان سے ڈھیر ساری امیدیں باندھ لیں۔ جب خاں صاحب حکومت میں آئے، تو انہوں نے...

Read More

پشتونوں کا جینیاتی مطالعہ

امجد علی سحاب اس وقت میرے ہاتھ میں ایک تحقیقی مقالہ 64 صفحات پر مشتمل ایک چھوٹے سے کتابچہ ”پشتونوں کا جینیاتی مطالعہ“ کی شکل میں ہے، جس کے مصنف ہیں ”ڈاکٹر محمد الیاس سیٹھی۔“کتاب کو دس مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:پہلے حصہ میں ”چند وضاحت طلب اصطلاحات“ کے تحت علمِ جینیات، ڈی این اے، جینز، خلیہ، وراثت، وراثتی جینز اور دیگر درجن بھر اصطلاحات پر ضرورت کے مطابق روشنی ڈالی گئی ہے۔دوسرا حصہ ”جینیات کیا ہے؟“ میں ڈاکٹر صاحب نے علمِ جینیات (Genetics) پر تھوڑی بحث کی ہے۔ نیز جینیات کے عام مقاصد بھی بیان کیے...

Read More

مرحوم حبیب اللہ بیتابؔ کی بیتابی

تصدیق اقبال بابو سنتے آرہے ہیں کہ سوات میں دو حبیب اللہ ہوا کرتے تھے۔ دونوں ہی ناظم تھے۔ دونوں ہی کی مونچھیں بڑی بڑی تھیں۔ دونوں ہی کے دل میں انسانیت کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ دونوں ہی خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار تھے۔ دونوں ہی اپنی خوشیاں تیاگ کر دن رات لوگوں کی خدمت میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ دونوں ہی شعر و ادب سے بھی شغف رکھتے تھے۔ دونوں ہی سوات کے جڑواں شہر مینگورہ اور سیدوشریف سے تھے، اور شومئی قسمت کہ دونوں ہی عین جوانی کی اُٹھتی بہار میں اس...

Read More

اے این پی کا بڑا پن

اختر حسین ابدالیآج سے چند دن پہلے وفاقی وزیر برائے داخلہ اُمور بریگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”عوامی نیشنل پارٹی نے طالبان کی مخالفت کی، تو انہوں نے بلور کو مار دیا، میاں افتخار حسین کے بیٹے (میاں راشد حسین) کو مار دیا، ان کے کارکنان کو مار دیا، یہ طالبان کی جانب سے ایک ری ایکشن تھا، اور اب جو لوگ نون لیگ کے بیانیے کا ساتھ دے رہے ہیں، ان کو اللہ خیر کرے۔“موصوف کی وائرل شدہ ویڈیو پر پوری پشتون قوم اور بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین...

Read More

کیک رسک کی تاریخ

چائے کے ساتھ اگر کیک رسک مل جائیں تو چائے کا لطف بھی دوبالا ہو جاتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ کیک رسک کی ایجاد سولہویں صدی میں ہوئی تھی۔ اور وہ بھی ایک ضرورت کے تحت اس کو ایجاد کیا گیا تھا۔ اس وقت کے لوگوں نے روٹی کو لمبے عرصے تک محفوظ بنانے کے لئے اس کو ایجاد کیا تھا۔ ہمارے پاکستان میں عام طور پر اس کو کیک رس بولا جاتا ہے جبکہ درست لفظ کیک رسک ہے۔ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کے مطابق لفظ ”رسک“ سال ١۵٩۵ء سے تعلق رکھتا ہے۔...

Read More

مسجد اوڈیگرام، پختونخوا میں پہلی تاریخی مسجد

مولانا خانزیب آج سے ایک ہزار سال پہلے بنائی گئی اس مسجد کا طرزِ تعمیر اپنی مثال آپ ہے، یہاں پر گارڈز مسجد میں داخل ہونے سے پہلے سیاحوں کو ایک بات کی تلقین خاص طور پر کرتے ہیں کہ آپ کو مسجد کے احاطے میں کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا ہے، کیوں کہ اس سے نیچر ڈسٹرب ہونے کا احتمال ہے، بالفاظ دیگر ایک ہزار سال پہلے جو چیز جہاں رکھی گئی تھی، اگر اسے وہاں سے اٹھایا گیا تو اس کی فطری کشش میں کمی واقع ہو جائے گی اسلام میں مساجد کی حیثیت دیگر...

Read More

جلسے اور کورونا

سلیمان ایس این حکومت اور وزارت صحت بار بار متنبہ کر رہی ہے کہ کورونا جلسوں کی وجہ سے اپنا زور زیادہ کر سکتا ہے اس لئے فی الحال ان جلسوں سے پرہیز ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ گجرانوالہ اورکراچی اور پھر کوئٹہ کے جلسوں کے بعد اگر دیکھا جائے تو واقعی کورونا کے واقعات میں اضافہ دکھائی دیتا ہے ۔ کورونا کے ہاتھوں اموات کی تعداد گر کر ایک دو تک پہنچ گئی تھی اور اب دس بارہ تک پہنچ چکی ہے۔ اور اس میں روز بروز اضافہ ہی دکھائی دیتا ہے۔ صرف پاکستان میں ہی نہیں...

Read More

مٹہ کالج کی تاریخ

محمد علی دینا خیل سوات اپنی مخصوص تاریخی، سیاسی اور جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے۔ دیگر قبائلی ریاستوں کے بر عکس سوات میں تعلیم کی شرح ابتدا ہی سے زیادہ رہی ہے۔ سوات میں پہلے سکول کا آغاز میاں گل عبدالودود کے دور میں 1922ء میں ہوا۔ پہلا گرلز سکول 1926ء میں قائم ہوا۔ اس طرح 20 کنال پر مشتمل مٹہ کالج کا شمار سوات کے اہم علمی اداروں میں ہوتا ہے۔ مٹہ کالج کے لیے رقم ریاستِ سوات کے 1967-68ء کے بجٹ میں مختص ہوئی تھی۔ کالج کی عمارت بھی ریاستی دور میں تعمیر ہوئی، لیکن باقاعدہ کلاسز کا...

Read More

کچھ مستشرق الیگزنڈر برنس کے بارے میں

فضل منان مَیں اپنے گذشتہ دو کالموں میں پشتو مستشرقین میجر ہنری جارج راورٹی اورجارج روس کیپل کا ذکر کر چکا ہوں۔ اپنے کالموں میں یہ بھی ذکر کر چکا ہوں کہ مستشرق کے معنی کیا ہیں اور مستشرقین نے پشتو پر یہ احسان کیوں کیا؟ اس لیے یہاں مستشرقین کے بارے میں کچھ لکھنا تکرار ہی ہوگا۔ میری تحریر کا مقصد پشتو زبان سیکھنے، اس کی ساخت، ادبی پس منظر اور پیش منظر کے سلسلے میں انقلابی رحجانات کے بارے میں جن مستشرقین اور ان کے مسلمان منشیوں نے پشتو ادبیات اور انقلابی تجدید کے لیے کام کیا...

Read More