Category: گندھارا

سوات میں رام تخت اور ایلم کی چھوٹی

سوات میں رام تخت ہندووں کا سب سے مقدس مقام ہے جو کشمیر میں امر ناتھ غار کے بعد دوسری مقدس اور اہم جگہ مانی جاتی ہے۔ رام تخت ایلم چھوٹی کے اوپر تقریبا 9 ہزار دو سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ جسے مقامی زبان میں جوگیانو سر کہتے ہیں ،ہندووں کا عقیدہ ہے کہ مہاراجہ رام چندر جی نے یہاں تین سال بن باس میں گزارے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہندو اور سکھ ہر سال ساون کے پہلے دن یہاں تہوار منانے کے لئے آتے تھے،آرکیالوجی کے ماہر جناب زڑہ ور خان کے مطابق...

Read More

سوات کے خوبصورت اور پر اسرار علاقے میں ابا صیب چینہ کے آثار قدیمہ

سوات نجی گرام بریکوٹ میں ابا صیب چینہ کے کھنڈرات بدھ مت دور سے تعلق رکھنے والے اپنے نوعیت کے سب سے دلچسپ اور منفرد آثار قدیمہ ہے، جہاں مرکزی سٹوبا،میناروں والے وہاڑے اور راہبوں کے کمرے دیکھنے کو ملتے ہیں،پہلی دفعہ ای برجر اور پی رائٹ نے 1938 میں بلوکلے کے ساتھ انہیں دریافت کیا تھا ۔بے شک یہ قدرتی طور پر محفوظ رہنے والے سب سے اہم آثار قدیمہ میں سے ہیں۔ آثار قدیمہ ماہرین کے مطابق ان کا تعلق تیسری صدی عیسوی میں کشان کے آخری دور سے ہے۔دو پہاڑوں کے درمیان تنگ اور سبز وادی...

Read More

وادی سوات میں چینی زائرین کے اسفار(دوسری قسط)

ہیون سانگ کا سفر اسی طرح ایک دوسرا مشہور چینی سیاح اور زائر ہیون سانگ بھی 630 عیسوی کو ھند کے دورے پر سوات آیا تھا اور یہ وہ دور تھا جب ایک صدی پہلے ہن قوم قوم کی چڑھائی نے یہاں تباہی کے آثار چوڑے تھے ۔ہیون سانگ اس وقت سوات کے قدرے بہتر اور واضح تصویر بنائی ہے جو سوات کی عظمت اور تقدس کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ ہیون سانگ اپنی کتاب "ادھیانہ انٹیل دی ایٹ سنچری: اے شارٹ ہیسٹاریکل اوور ویو”بمیں بیان کرتے ہیں کہ ادھیانہ این سلطنت ہے جو فلک بوس اور برف پوش...

Read More

وادی سوات میں تبت زائرین کے اسفار(پہلی قسط)

ویسے تو قدیم سوات ادھیانہ کے تبت سے کئی راہب اور زائرین نے سفر کئے ہیں لیکن یہاں چند ایک کا زکر لازمی ہے ،یہاں اس بات کا بھی زکر کرنا ضروری ہے کہ ادھیانہ پر سب سے زیادہ قابل اعتماد تحقیق کام پروفیسر ٹوچی نے ہی کیا ہےاور حقیقت بھی یہی ہے کے پروفیسر ٹوچی کی کئی سالوں پر محیط تحقیق ہی کی وجہ سے دنیا نے سوات کو ادھیانہ مانا ہے. پروفیسر ٹوچی کے مطابق جب وہ تبت میں ہوتے تھے تو بے شمار قدیم کتابوں سفر ناموں اور راہبوں کی آپ بیتیوں میں انہوں نے ارجن...

Read More

وادی سوات میں چینی زائرین کے اسفار(پہلی قسط)

قدیم ادھیانہ سلطنت کی پرانے وقتوں میں خوب صورتی اور بدھ مت کے عظیم مرکز ہونے کی اہمیت کو یہاں آئے ہوئے چینی زائرین کی کتابوں اور لکھائی سے مزید اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو یہاں سوات خالص اور حقیقی بدھ مت کی کھوج میں آئے تھے فاہیان کا سفر: 399 اور 414 عیسوی کے درمیان چینی راہب فاہیان اپنے دور ے میں وسطی ایشیا سے ہوتے ہوئے سوات میں داخل ہوا،اپنے دوسرے ساتھیوں سمیت جب وہ سوات آیا تو اس نے دیکھا کہ یہاں کے لوگ وسطی ہندوستان کی زبان بولتے ہیں،وہاں کی خوراک کھاتے ہیںاور...

Read More

سوات نیموگرام میں دوسری صدی عیسوی کی سٹوپا اور خانقاہ

نیموگرام کے کھنڈرات سوات کے دل کش کھنڈرات میں سے ہیں جو بریکوٹ سے تقر یبا 22 کلومیٹر دور دریائے سوات کے دائیں کنارے شموزو میں چونگی زرہ خیلہ کے علاقہ سبو خپہ میں ایک پہاڑی کے اوپر واقع ہیں،بدھ مت دور کے یہ اثار قدیمہ اونچے پہاڑ کے دامن میں اس طرح واقع ہیں کہ یہاں سے تین اطراف یعنی ،شمال جنوب اور مغرب میں سرسبز کھیت نظر آتے ہیں،یہاں آکر لوگوں کو دلی سکون ملتا ہےاور قدرتی حسن انسان کی جمالیاتی حس کو ضرور چھوتا ہےنیموگرام آثار قدیمہ کی کھدائی سال 1967 ء اور 1968ء میں ہوئی...

Read More

خیبر پختونخوا اور گندھارا آرٹ

روخان یوسفزئی مستند تاریخ اور برآمد ہونے والے بے شمار قدیم آثار و نوادرات کی روشنی میں خیبرپختون خوا کی زمین پر ( 20 لاکھ سال قبل از مسیح) سے لے کر برطانوی دور حکومت تک کئی ثقافتوں اور تہذیبوں نے جنم لیا ہے۔ ان تہذیبوں میں سب سے زیادہ مشہور گندھارا تہذیب ہے جس کے برآمد ہونے والے بے شمار نمونے آج بھی ملک کے اندر باالخصوص پشاورکے عجائب گھر میں موجود ہیں۔گندھارا وادی پشاور کا پرانا نام ہے جو دریائے سندھ کے مغرب اور دریائے کابل کے شمال میں پشاور سے لے کر سوات، دیر اور بامیان...

Read More

مقبرہ فرعون،آج بھی سیاحوں کی دلچسپی کامرکز

قدیم عجوبوں میں واحد بچ جانے والے ایک عجوبے یعنی اہراموں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں اور ماہرین آثار قدیمہ کی دلچسپی کامحورہے۔ان اہراموں کے راز سے پردہ اٹھانے کے لیے ماہرین آثار قدیمہ کئی برسوں سے وادی مصرکی ریت چھان رہے ہیں۔جس کے تلے برآمدہونے والی ان گنت دریافتوں نے حیرت کاایک جہاں آباد کررکھا ہے۔ انہی دریافتوں میں ایک دریافت قدیم مصری فرعون توتن خامن کے مقبرے کی بھی ہے۔انسانی تاریخ کے طویل باب میں شاید ہی آثار قدیمہ کی اس دریافت میں اس قدر عالمگیر شہرت کسی نے حاصل کی ہو جتنی شہرت توتن...

Read More

تاج محل کے متعلق دلچسپ حقائق

بھارت کے شہر آگرہ میں واقع تاج محل ایک مقبرہ ہے۔ اس کی تعمیرمغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں کروائی تھی۔ تاج محل مغل طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔ اس کی تعمیراتی طرز فارسی، ترک، بھارتی اور اسلامی طرز تعمیر کے اجزاء کا انوکھا ملاپ ہے۔ 1983ء میں تاج محل کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور کلچر نے عالمی ثقافتی ورثے میں شمار کیا۔ اس کے ساتھ ہی اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی جامع تعریف حاصل کرنے والی، بہترین تعمیرات میں سے ایک بتایا گیا۔ تاج محل کو بھارت...

Read More