ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوامیں اساتذہ کی بھرتیوں کے لئے ہونے والے ٹیسٹوں میں بے قاعدگیوں سے بھرتی کے عمل کی شفافیت سوالیہ نشان بن گیاہے جس پر صوبائی حکومت نے آئندہ بے قاعدگیاں سامنے آنے پر متعلقہ ٹیسٹنگ ایجنسی کو بلیک لسٹ کرکے ان پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں 9ہزار 300اساتذہ کو بھرتی کرنے کیلئے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے دو ٹیسٹنگ ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی تھیں تاہم دونوں ٹیسٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے منعقد کرائے جانے والے ٹیسٹوں میں مسلسل بے قاعدگیوں کی شکایات سامنے آنے پر صوبائی حکومت نے ایک طرف اس تمام صورت حال کی انکوائری کے لئے دو رکنی کمیٹی قائم کردی ہے جبکہ دوسری جانب جن ٹیسٹ بھی منسوخ کردیئے ہیں ۔بھرتیوں کے ہونے والے ٹیسٹ میں مسلسل بے قاعدگیاں سامنے آنے سے بھرتیوں کے عمل کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، اس بارے میں صوبائی مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش اور صوبائی سیکرٹری محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد خان سے رابطے کی کوششیں کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا تاہم صوبائی ڈائریکٹر ایجوکیشن خیبر پختونخوا حافظ ابراہیم نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ٹیسٹنگ اداروں پر واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ منعقد ہونے والے ٹیسٹوں میں بے قاعدگیوں کی شکایات سامنے آنے پر متعلقہ ٹیسٹنگ ادارے کو بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ جرمانہ کیا جائے گا ان کے مطابق موجودہ ٹیسٹنگ اداروں کی خدمات صوبائی سیکرٹری ایجوکیشن اور ڈائریکٹر ایجوکیشن کی ہدایت پر لی گئی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا لیکن اب مستقبل میں اوپن ٹینڈرکے ذریعے ٹیسٹنگ اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی ۔