فضل ربی راہی


حضرت اخوند صاحب سوات کا اصلی نام عبد الغفور اور والد کا نام عبدالواحد تھا۔ آپ کا سلسلۂ نسب مہمندوں کے قبیلہ صافی سے جا ملتا ہے۔ آپ علاقہ شامیزیِ (سوات) کے موضع جبڑیِ میں 1794ء کو پیدا ہوئے بچپن ہی سے حصولِ علم کا شوق اور زہد و تقویٰ سے رغبت رہی۔ تعلیم کے ابتدائی مدارج طے کرنے کے بعد آپ گھر سے نکل کر گوجر گڑھی (ضلع مردان) میں اس وقت کے مشہور عالم دین مولانا عبدالحکیم سے حصولِ تعلیم کرتے رہے۔ کچھ عرصہ آپ نے چمکنی(پشاور) اور زیارت کاکا صاحب (نوشہرہ) میں گزارا۔ پھر پشاور میں حضرت جی صاحب کی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور آخر میں طور ڈھیری (ضلع مردان) میں کچھ عرصہ مولانا محمد شعیب کی خدمت میں گزارا۔ ان کی وفات کے بعد 1816ء میں آپ نے دریائے سندھ کے کنارے موضع بیکی میں قیام کیا اور وہیں عبادت میں مشغول رہے۔ 1828ء میں بیکی سے نکل کر نمل اور پھر موضع سلیم خان پہنچے۔ جہاں انہیں پہلی بار اخوند پکارے جانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ سکھوں اور درانیوں کی جنگ میں آپ نے دوست محمد خان فرمان روائے افغانستان کا ساتھ دیا۔ اس طرح اپنی عمر کے چوبیس سال گزارنے کے بعد ستمبر 1835ء میں وہ اپنے وطن کو واپس لوٹ آئے پہلے پہل انہوں نے علاقہ ملوچ (سوات) کی ایک مسجد میں قیام کیا۔ وہاں سے موضع رنگیلا منتقل ہوئے پھر سوات کے اوڈی گرام نامی تاریخی گاؤں کے قریب غازی بابا(پیر خوشحال) کے مزار میں قیام پذیر رہے اور بعد ازاں مرغزار کی خوب صورت وادی کی راہ لی۔ وہاں سے مرغزار کے قریب سپل بانڈی نامی گاؤں میں مقیم ہو گئے وہاں شادی کی اور 1845 میں اس جگہ سے نکل کر سیدو میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ جو اس وقت صرف سیدو کے نام سے پہچانا جاتا تھا لیکن ان کے مستقل قیام کی وجہ سے سیدو، سیدو شریف کہلانے لگا۔ سیدو میں مقیم ہو جانے کے بعد آپ نے مخلوقِ خدا کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ دی۔آپ نے 12 جنوری1877ء میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ کو سیدو شریف میں سپردِ خاک کیا گیا۔ جہاں ایک بڑی مسجد میں آپ کا عالی شان مزار عوام و خواص کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آپ کے مزار پر دور دراز کے علاقوں سے آنے والے ہزاروں زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے۔

اخوند صاحب کا اعلانِ جہاد

1863ء میں اخوند صاحبِ سوات (سیدوبابا) نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ کونڑ،باجوڑ،دیر، جندول، بونیر اور سوات کے لشکر اخون صاحب کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے اور انگریزوں پر حملہ کر دیا گیا۔ انگریزوں نے بونیر پر لشکر کشی کی۔ بونیر میں امبیلہ کے مقام پر انگریزی فوج اور مجاہدین کے لشکر کے درمیان خون ریز جنگ ہوئی۔ جنگ کے بعد انگریز امبیلہ سے واپس چلے گئے یہ جنگ امبیلہ کمپین 1863ء کے نام سے مشہور ہے۔

اخوند صاحب کے بعد


اخوند صاحب(سیدو بابا) کی وفات کے بعد ان کے دونوں بیٹے عبد المنان اور عبد الخالق ایک جنگ کے سلسلہ میں نوابِ دیر کے ساتھ موضع تالاش میں مقیم تھے۔ وفات کی خبر ملتے ہی عبد المنان واپس لوٹ آئے لیکن عبد الخالق کو بروقت اطلاع نہ مل سکی۔ جلدی میں وہاں سے نکل کر عبد المنان نے حصولِ اقتدار کی کوشش کی۔ اگرچہ انہیں یہ اقتدار حکمران کی حیثیت سے نہ مل سکا لیکن اس نے اپنے گرد طاقت جمع کر لی اور ایک قائد یا سردار کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے لگا۔ اس کے برعکس عبد الخالق نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چل کر عوام کے دلوں پر قبضہ کر لیا۔ علاقہ بھر میں شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کے سلسلہ میں دورے شروع کئے بڑی تعداد میں مرید اور شیوخ ان کے گرد جمع ہو گئے اس طرح انہیں مذہبی اقتدار حاصل ہو گیا۔ حضرت اخوند کی وفات کے کوئی دس سال بعد ان کے بڑے بیٹے عبد المنان وفات پا گئے 1892ء میں پینتیس سال کی عمر میں عبد الخالق بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے

میاں گل عبدالودود کا ظہور

حضرت اخوند کے بیٹے میاں گل عبد الخالق کی وفات پر ان کے دو کم سن بیٹے رہ گئے تھے۔ بڑے بیٹے میاں گل عبدالودود کی عمر دس سال تھی جبکہ چھوٹا بیٹا میاں گل شیرین جان بہت کم عمر تھا۔ ان دونوں کو ہی باپ کا جانشین تسلیم کر لیا گیا۔ وہ سجادہ نشین کی حیثیت سے دکھائی دینے لگے۔ اس طرح گویا بچپن ہی سے انہیں مذہبی اقتدار حاصل ہو گیا۔ ایک عرصہ تک تو یہ سجادہ نشین اور ان کے دو چچا زاد بھائی یعنی عبد المنان کے بیٹے آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہے۔ پھر اختلافات نے سر اٹھایا ۔ دونوں نے اپنی اپنی جماعتیں منظم کرنا شروع کیں۔ کش مکش بڑھنے لگی۔ سازشیں شروع ہوئیں، نتیجتاً حالات اس حد تک بگڑ گئے کہ ایک دن جب یہ دو چچا زاد بھائی راستہ میں ایک دوسرے کے سامنے آئے تو ایک بھائی 1904ء میں گولی کا نشانہ بنا اور دوسرا بھائی 1907ء میاں گل عبدالودود کی گولی سے ہلاک ہوا۔

اب دونوں بھائی میاں گل عبدالودود اور میاں گل شیرین جان اتفاق و اتحاد سے رہنے لگے۔ انہوں نے جائداد تقسیم کر لی۔ اس دوران میاں گل عبدالودود فریضۂ حج ادا کرنے چلے گئے واپسی پر دونوں بھائیوں میں بھی اختلافات پیدا ہوا۔ شیرین جان نے سیدو پر حملہ کر دیا لیکن شکست کھائی۔ پھر میاں گل عبدالودود نے غالیگی پر حملہ کرتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا۔ بعد ازاں دونوں بھائی چھ ماہ تک قمبر کے مقام پر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہے۔

سوا ت پر نوابِ دیر کا حملہ

1908ء میں نوابِ دیر نے سوات پر حملہ کیا۔ دریائے سوات کو پار کر کے سوات کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ یہ جنگ سوات میں مقیم دو قبیلوں نیک پی خیل اور شموزیِ میں اختلافات کی بناء پر رونما ہوئی۔ کمزور پارٹی نے نوابِ دیر سے امداد طلب کی تھی جس سے فایدہ اٹھاتے ہوئے اس نے لشکر کشی کی اور نیک پی خیل اور شموزیِ کے علاقوں پر قابض ہو گیا۔

سنڈاکئی ملا

سوات کے باشندوں کو جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ انہوں نے خواہ مخواہ اپنے گھریلو جھگڑے میں نوابِ دیر کو دعوت دے کر خود ہی اپنی غلامی کی تدبیر کی۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد “سنڈاکئی ملا” نامی شخص، جو انگریزوں کے خلاف صف آراء تھا، وہ اہلِ سوات کی مدد پر آمادہ ہو گیا اور یوں 1915ء میں سوات کے قبیلوں نے سنڈاکئی ملا( جو تاریخ میں کوہستان ملا کے نام سے بھی مشہور ہیں) کی سر کردگی میں جلد ہی اپنے تمام مقبوضہ علاقے وا گزار کرا لئے..
(جاری ہے)..