نیموگرام کے کھنڈرات سوات کے دل کش کھنڈرات میں سے ہیں جو بریکوٹ سے تقر یبا 22 کلومیٹر دور دریائے سوات کے دائیں کنارے شموزو میں چونگی زرہ خیلہ کے علاقہ سبو خپہ میں ایک پہاڑی کے اوپر واقع ہیں،بدھ مت دور کے یہ اثار قدیمہ اونچے پہاڑ کے دامن میں اس طرح واقع ہیں کہ یہاں سے تین اطراف یعنی ،شمال جنوب اور مغرب میں سرسبز کھیت نظر آتے ہیں،یہاں آکر لوگوں کو دلی سکون ملتا ہےاور قدرتی حسن انسان کی جمالیاتی حس کو ضرور چھوتا ہےنیموگرام آثار قدیمہ کی کھدائی سال 1967 ء اور 1968ء میں ہوئی ہے،یہ آثار ایک قطار میں شمال سے جنوب کے جانب تین بڑے سٹوپوں اور56 چھوٹے سٹوپوں پر مشتمل ایک بڑے صحن کے ساتھ مغرب کے طرف خانقاہ پر مشتمل ہیں،

آثار قدیمہ کے ماہرین نے یہاں دریافت ہونے والے کشان دور کے سکوں سے اسے دوسری صدی عیسوی سے جوڑا ہے،سکوں کے علاوہ یہاں سے بڑی تعداد میں ساکا پارتھیئن دور کے مجسمے جو بدھ مت کی مختلف داستانوں کو ظاہر کرتے ہیں،ملے ہیں،

سوات کے مصنف اور کالم نگار فضل خالق کے کتاب “ادھیانہ :سوات جنت گم گشتہ” سے اقتباس