ہیون سانگ کا سفر

اسی طرح ایک دوسرا مشہور چینی سیاح اور زائر ہیون سانگ بھی 630 عیسوی کو ھند کے دورے پر سوات آیا تھا اور یہ وہ دور تھا جب ایک صدی پہلے ہن قوم قوم کی چڑھائی نے یہاں تباہی کے آثار چوڑے تھے ۔ہیون سانگ اس وقت سوات کے قدرے بہتر اور واضح تصویر بنائی ہے جو سوات کی عظمت اور تقدس کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

ہیون سانگ اپنی کتاب “ادھیانہ انٹیل دی ایٹ سنچری: اے شارٹ ہیسٹاریکل اوور ویو”بمیں بیان کرتے ہیں کہ ادھیانہ این سلطنت ہے جو فلک بوس اور برف پوش پہاڑوں کے درمیان واقع ہے، یہاں وسیع و عریض میدان ،گلاب،سبزہ زار اور وسیع چراہ گاہیں اور اونچے میدان مرتفع جابجا واقع ہیں،یہاں انگور بہ کثرت اگتے ہیں ،ہیون سانگ یہاں کی زمین کو خدا کا عطا کردہ تحفہ قرار دیتا ہے جہاں عمدہ فصلیں اگتی ہیں اور عمدہ نسلوں کے مویشی چرتے ہیں یہ زمین پھلوں کے باغات سے بھرے پڑے ہیں حقیقت میں یہ وہ وطن ہے جہاں دودھ ،شہد اور شراب کی نہریں بہتہ ہیں۔

ہیون سانگ نے مزید لکھا ہے کہ ادھیانہ سونے،لوہے اور دوسری قیمتی اور منافع بخش دھاتوں سے بھرا پڑا ہے سال بھر درجہ حرارت نہ زیادہ گرم رہتا ہے اور نہ بہت ٹھنڈا ۔تمام پہاڑ درختوں سے بھرے پڑے ہیں ،جبکہ یہاں کی وادیاں رنگ بہ رنگے خوشبودار پھولوں کی چادر لپیٹے ہوئی ہیں ۔ دراصل رہن سہن کے لئے یہ ایک موزوں اور پسندیدہ علاقہ ہے اگر چہ بدھ مت ہی ہیون سانگ کے دورے کے دوران غالب مزہب ہے تاہم کسی زمانے میں یہاں دریائے سوات کے کنارے جو 1400 خانقاہیں ہوا کرتی تھی ان میں زیادہ تر کھنڈروں میں تبدیل ہوگئی ہیں اور ان خانقاہوں میں 18000 سے زائد راہب جو یہاں علم حاصل کرتے اور عبادت میں مصروف دیکھائی دیتے،اب زیادہ تر غائب ہوچکے ہیں۔

ہیون سانگ کے مطابق ادھیانہ کے باسی شریف ،نرم مزاجر نازک تھے۔ ہیون سانگ نے جو نقشہ کھینچا ہاس سے ہمیں یہ تصور ملتا ہے کہ یہاں کے لوگ صحت مند ،سانولے اور زیادہ تر خالص سفید کاٹن کے کپڑوں میں ملبوس دیکھائی دیتے تھے۔مرد زیادہ تر سفید پگڑیوں جبکہ خواتین سفید ملائم ساڑھیوں میں ملبوس دیکھائی دیتی تھیں۔ یہ لوگ شریف اور مطمیئن ہیں جو کسی آفت یا جنگ کے خطرات سے کوسوں دور نظر آتے ہیں،مختصر یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو عمدہ ثقافت کا قدر دان اور علم و دانائی سے حد درجہ پیار کرنے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

سوات کے مصنف اور کالم نگار فضل خالق کے کتاب ” ادھیانہ :سوات کی جنت گم گشتہ” سے اقتباس