سوات میں رام تخت ہندووں کا سب سے مقدس مقام ہے جو کشمیر میں امر ناتھ غار کے بعد دوسری مقدس اور اہم جگہ مانی جاتی ہے۔ رام تخت ایلم چھوٹی کے اوپر تقریبا 9 ہزار دو سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ جسے مقامی زبان میں جوگیانو سر کہتے ہیں ،ہندووں کا عقیدہ ہے کہ مہاراجہ رام چندر جی نے یہاں تین سال بن باس میں گزارے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہندو اور سکھ ہر سال ساون کے پہلے دن یہاں تہوار منانے کے لئے آتے تھے،آرکیالوجی کے ماہر جناب زڑہ ور خان کے مطابق ایلم کی پہاڑی پر اور اس کے ارد گرد ہندو دیوتاوں کے کئی مجسمے ملے ہیں،جو اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ یہ ہندووں کی مقدس اور پسندیدہ جگہ تھی،جوگیانو سر یعنی جوگیوں کی چھوٹی میں آثار قدیمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہندووں کی عبادت کی اہم جگہ تھی جو یہاں بن باس کیا کرتے تھے

ایلم چھوٹی کے تقدس اور اہمیت کا اندازہ پرانے مورخین کے لکھائی سے بھی ہوتا ہے ڈاکٹر لوکا کے مطابق پروفیسر ٹوچی کہتا ہے کہ تاریخ میں میرو پہاڑ ہی اصل میں ایلم پہاڑ ہے جسے چینیوں نے ہی لا HI-la،تبتیوں نے ای لو ILOاور سکندر اعظم کے مورخین نے اور نوس Arnosکے نام سے پکارا ہے۔

پروفیسر ٹوچی اپنے تحقیقی مضمون On Swat: The Dard and Connected Problems ,1977 میں سرل اور سٹائن جنہون نے اور نوس کو چکیسر میں پیر سر کو قرار دیا ہے ،کی نفی کی ہے ۔پروفیسر ٹوچی سکندر اعظم کے اور نوس پہاڑی کا معمہ سلجھاتے ہوئے لئے کہتا ہے کہ یونانی مورخین آریانس اور کورشس کے مطابق جب سکندر اعظم نے اورا(اوڈیگرام ) فتح کیا تو بازیرہ کے باسیوں نے ڈر کے مارے رات کی تاریکی میں بھاگ کر ایک پہاڑی پناہ گاہ میں پناہ لے لی ۔اس پہاڑی کو آریانس نے اورنوس کہ کورشس نے اور نیس لکھا ہے ،ٹوچی کہتا ہے کہ ایلم پہاڑ ہی تھا جو دیوتاوں کے مسکن کی وجہ سے صدیوں سے مقدس حیثیت رکھتا تھا ۔وہ مزید کہتا ہے کہ قدیم زمانے میں مقدس پہاڑوں پر پناہ لینا فظری عمل تھا کیوں کہ ان کا عقیدہ تھا کہ مقدس پہاڑوں پر ان کی دیوتا رہتے تھے۔ ویسے بھی عملی طور پر ایک رات میں بازیرہ بریکوٹ سے پیر سر تک پہنچنا نا ممکن ہے جب کہ ایلم بریکوٹ کے نزدیک ترین مقدس پہاڑ تھا،جہاں رات کی تاریکی میں پہنچنا ممکن ہے ۔اس لئے اورنوس ایلم ہی ہے۔

ایلم پہاڑ مضبوط دیوار اور قلعہ کے آثار بھی ملے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ ایلم کے پہاڑ پر قدیم سوات کا سب سے مظبوط قلعہ تھا جس کو تسخیر کر نا ناممکن تھا یہی وجہ ہے کہ یونانی موررخین یہاں یونانی دیو مالائی کر دار HERCULES کازکر بھی کرتے ہیں کہ ہر کیولس بھی یہاں یعنی اورنوس (ایلم ) کو فتح کرنے میں ناکام ہوا تھا یہ مورخٰین سکندر اعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہے کہ جہاں دیوتا ناکام رہے تھے وہاں سکندر اعظم نے کامیابی حاصل کی پروفیسر ٹوچی کہتا ہے کہ شائد سوات کے ابتدائی باسی ایلم کے عبادت بھی کیا کرتے تھے

سوات کے مصنف و تجزیہ نگار ٖفضل خالق کے کتاب “ادھیانہ: سوات کی جنت گم گشتہ” سے اقتباس