سوات(مارننگ پوسٹ) سوات سول سوسائٹی نے کورونا وائرس کے وبائی امراض کے پیش نظر کچن باغبانی کو فروغ دینے کے لئے لوگوں میں سبزیوں کے بیج تقسیم کرنے کی مہم کا آغاز کردیا۔سوات مینگورہ شہر کا علاقہ کوکا رئی یونین کونسل میں اس سرگرمی کا آغاز کردیا گیا، جہاں خپل کلی وال تنظیم کے رضاکاروں نے نہ صرف دیہات کے لوگوں میں کورونا وائرس کے بارے میں شعور بیدار کیا ، بلکہ اپنے گھر پر قیام کے دوران پیداواری سرگرمیاں شروع کرنے کے لئے بھی لوگوں کی حوصلہ افزائی کی۔رضاکاروں نے لوگوں سے کتابیں پڑھنے کی عادات کو فروغ دینے کی بھی تاکید کی۔ انہوں نے سڑکوں پر بکھرے ہوئے کوڑے کو جمع کرنے کا بھیڑا بھی سر پر اٹھایا ہے زرعی محقق فضل مولا زاہد ، جو خپل کلی وال تنظیم کے سربراہ بھی ہیں ، نے کہا کہ باورچی خانے کے باغبانی کا خیال نیا نہیں تھا۔ انہوں نےمیڈیا کو بتایا ، “اسے کئی دہائیوں پہلے متعارف کرایا گیا تھا لیکن لوگوں نے اپنی طے شدہ سرگرمیوں میں وقت کی کمی اور دوسری طرف بازار میں سستے اور تازہ سبزیوں کی متواتر دستیابی کی وجہ سے کبھی ان کو اہمیت نہیں دی ،انہوں نے کہا کہ گھروں میں سبزیوں کی پیداوار نہ صرف آسان اور ایک دلچسپ سرگرمی ہے ، بلکہ تازہ اور نامیاتی سبزیوں کی دستیابی کو بھی یقینی بناتا ہے۔ `ہمارے رضاکار لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ کس طرح کورونا وائرس سے دور رہیں انہوں نے لوگوں کو چھتوں پر پودے لگانے کے لئے بیجوں کے پیکٹ دیں ۔رضاکاروں نے بتایا کہ کورونا وائرس وبائی مرض سے گھر میں بیکار بیٹھے مرد اور خواتین کو سبزیوں کی باغبانی میں اپنا فارغ وقت استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ تنظیم کے وائس چیئرمین اختر علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ ، “اس سے نہ صرف پیسہ بچانے میں مدد ملے گی بلکہ ان کے کچن سے صرف چند قدم کے فاصلے پر تازہ اور مزیدار سبزیاں بھی فراہم کی جائیں گی۔”انہوں نے کہا کہ اس عمل سے زراعت کی اراضی پر طویل عرصے سے اناج کی فصل کی پیداوار کے لئے آزاد کر کے دباؤ کو کم کیا جا ئیگا ، اور لوگوں کو ارزاں سبزیوں کی دستیابی سے مارکیٹ پر بھی بوجھ کم ہوگا۔رضاکاروں نے کہا کہ اس سے لوگوں کی صحت پر بھی مثبت اثر پڑے گا اور اسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا۔ایک رضاکارانہ آفرین خان نے کہا ، “ہم صرف مردوں کو نہیں بلکہ خواتین کی بھی حوصلہ افزائی کررہے ہیں کیونکہ اگر اس مخصوص سرگرمی میں مشغول ہوں گے تو وہ اپنے طرز زندگی میں اچھی تبدیلیاں لائیں گے۔”