تصدیق اقبال بابو

سنتے آرہے ہیں کہ سوات میں دو حبیب اللہ ہوا کرتے تھے۔ دونوں ہی ناظم تھے۔ دونوں ہی کی مونچھیں بڑی بڑی تھیں۔ دونوں ہی کے دل میں انسانیت کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ دونوں ہی خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار تھے۔ دونوں ہی اپنی خوشیاں تیاگ کر دن رات لوگوں کی خدمت میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ دونوں ہی شعر و ادب سے بھی شغف رکھتے تھے۔ دونوں ہی سوات کے جڑواں شہر مینگورہ اور سیدوشریف سے تھے، اور شومئی قسمت کہ دونوں ہی عین جوانی کی اُٹھتی بہار میں اس جہان سے اُٹھ کر اُس جہان چلے گئے جہاں سے کوئی بھی واپس نہیں آسکتا۔ ایک کو بم کے شعلے کھا گئے، تو دوسرے کا کلیجہ ہی پھٹ کر شق ہوگیا۔ ایک تو میرا کسی مرحلے میں شاگرد بھی رہا تھا۔ جب بھی مینگورہ میں مجھے کہیں دیکھتا، بانہیں پھیلا کر میری جانب لمبے ڈگ بھرتا آتا اور اپنی لمبی تڑنگی جوانی کے جوش میں مجھے سینے سے لگا لیتا اور دوسروں کو فخریہ بتاتا کہ ”یہ میرے استادِ محترم ہیں۔“ اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے۔ دوسرے حبیب اللہ (بیتابؔ) سے میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی، لیکن میرے ہمدمِ دیرینہ سمیع اللہ گرانؔ کا کہنا ہے کہ ”اس جیسا اچھا انسان مَیں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ وہ ایک بے مثال انسان تھا۔ دن تو دن، آدھی رات کو بھی اُسے فون کیا جاتا، تو آنکھیں ملتا باہر چلا آتا۔ یار لوگوں نے بارہا شرط لگا کر اُسے راتوں کو باہر نکال کر شرطیں جیتی ہیں۔“ شنید ہے کہ وہ غریب کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا تھا۔ نادار، غریب، یتیم اور یسیر کے سرپر دستِ شفقت رکھتا اور جتنی ہوسکتی اس سے بڑھ کر ان کی مدد کرتا۔ مظلوم کے حق کے لیے لڑ بھڑ کر اُن کے لیے اُن کا حق دلاتا۔ جبھی تو سیدوشریف کے کیا بچے، کیا جوان، کیا بوڑھے اور کیا خواتین سبھی کے دل میں حبیب اللہ بیتابؔ کی قدر تھی۔ اور ہر کوئی اس کی بھلے مانسی، انسان دوستی اور خدا ترسی کی تعریف کیا کرتا تھا اور کیا کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ انسان مرجاتا ہے، لیکن اُس کی یادیں رہ جاتی ہیں۔ کسی کا نام تخریبی حوالے سے رہ جاتا ہے جسے لعنت بھیج کر یاد کیا جاتا ہے، تو کوئی اچھے کاموں کے حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے، جس کے لیے مٹھی بھر دعا بھی مانگی جاتی ہے۔ حبیب اللہ بیتابؔ اُن بندوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں مٹھی نہیں مٹھیاں بلکہ جھولیاں بھر بھر کر دعائیں دی جاتی ہیں۔
حبیب اللہ بیتابؔ کا اِک پہلو شعر و ادب کے حوالے سے بھی رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ کیوں کہ ابراہیم شبنمؔ نے اِک شعر میں یہاں تک کہہ رکھا ہے کہ
کہ باچا وی کہ گدا وی پہ مرگ ورک شی
نہ ورکیگی چی لیکلے ئی کتاب وی
بیتابؔ آج اس دنیا میں تو نہیں رہے، لیکن اُن کی دو عدد کتابیں اُنہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔ ان کا انتقال 2013ء میں ہوا، جب کہ حال ہی میں یعنی 2020ء میں اُن کا دوسرا شعری مجموعہ چھپ کر منظرِ عام پر آیا ہے۔ حالاں کہ یہ مسودہ اُن کی زندگی ہی میں تیار ہوچکا تھا، اور عطاء اللہ جان نے دو مشاہیر سے ابتدائیے بھی لکھوالیے تھے، لیکن پھر بیتابؔ صاحب فوت ہوگئے، اور یوں پراجیکٹ ٹھپ ہوگیا۔ اگر بیتابؔ صاحب کی موت کے فوراً بعد یہ کتاب منظر عام پہ آجاتی، تو مارکیٹنگ اور بھی زیادہ ہوتی۔ افسوس یہ کتاب اپنے عرصے سے بارہ سال بعد چھپ کر منظر عام پہ آئی۔ اس مابین بہت سے نامی گرامی سرقہ بازوں نے کلامِ بیتابؔ کے مزے لوٹے ہیں۔ کتاب چھپنے کے بعد لائق زادہ لائقؔ نے کیا خوب لکھا ہے کہ ”چلو بہتر ہوا کہ اب یہ مزید سرقہ بازوں کے دست برد سے تو محفوظ ہوگیا۔“
اس کتاب پہ بڑے بڑے جغادریوں نے مقدمے، دیباچے اور فلیپ لکھ کر کلام کے انضباط پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے۔ جن میں لائق زادہ لائقؔ کے علاوہ اباین سین یوسف زئی، ڈاکٹر اسرارؔ، عبدالرحیم روغانےؔ، بخت زادہ دانشؔ، عطاء اللہ جانؔ اور خود سمیع اللہ گرانؔ شامل ہیں۔ آخر الذکر نے ڈائریوں، بیاضوں اور بکھرے اوراق سے دھول جھاڑ کر چنیدہ کلام کا انتخاب کرکے اسے کتابی شکل دینے کا بیڑا اُٹھا رکھا ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں ”عاشقِ بیتابؔ“ ہے۔ اس لیے اس جنونی اور سر پھرے نے کلامِ بیتابؔ کو آخری شکل دینے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں۔ یوں جانؔ کی معاونت سے سمیع اللہ گرانؔ نے یہ کارنامہ سرانجام دے کر اِک اور سنگ میل طے کرلیا ہے۔ یہی ادب کی خدمت ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ ”خادمِ ادب“ کے حق دار بھی ٹھہرتے ہیں۔
اگر حبیب اللہ بیتابؔ کی شاعری کے حوالے سے بات کی جائے، تو ہم کھلم کھلا کہہ سکتے ہیں کہ وہ بنیادی طور پر جمالیات کے شاعر تھے۔ اُن کی قلبی واردات اور رومانوی جذبات سے لبریز شاعری میں سادگی، روانی اور موسیقیت موجود ہے۔ اس شاعری میں حسن و جمال کا بہاؤ ہی بہاؤ ہے، رومان ہی رومان ہے، کیف ہی کیف ہے۔ لیکن کہیں کہیں شدت اور مزاحمت کا رنگ بھی غالب آنے لگتا ہے۔ لیکن بہ حیثیت مجموعی رومانویت، اُنسیت، اپنائیت کا احساس قاری کو سنگ سنگ لیے چلتا ہے۔ انہوں نے داخلی کیفیات کو بڑی سادگی اور سلاست سے بیان کیا ہے، جس میں بھر پور غنائیت کا عکس موجود ہے۔ اسی لیے تو کرن خان، ایاز خان، عبید خان، زبیر خان کے علاوہ ضیاء الدین ضیا، سمیرا ناز اور ظفر قرارنے بھی ان کے کلام کو خوش الہانی کے زیور سے آراستہ و پیراستہ کرکے پھولوں کی پتیوں کی مانند ہوا کے دوش پہ سوار کردیا ہے، لکھتے ہیں:
سومرہ خوش نصیبہ یم او غوڑ یمہ
ستا پہ تور د مینے چی ککڑ یمہ
مینہ کی چی ستا لیونے نہ شومہ
تا تہ بس پہ دی خبرہ پڑ یمہ
اوس چی پہ ژوندون د بیتابؔ نہ رازی
را بہ شی اشنا خو زہ بہ مڑ یمہ
بیتابؔ نے غزل کے علاوہ نظم کی مختلف اقسام میں بھی طبع آزمائی کی ہے، جس میں کھل کر انہوں نے اپنا مافی الضمیر بیان کیا ہے۔ اپنے والد بزرگوار کی جدائی کا نوحہ انہوں نے جس درد انگیز الفاظ میں نظم کیا ہے، اس کا درد وہی محسوس کرسکتے ہیں جن کے سر سے شفقت کا یہ سایہ اُٹھ چکا ہو، لکھتے ہیں:
ستا فراق کی زما ڈکہ لہ ارمانہ زندگی دہ
بے لتا پیکہ پیکہ می بابا جانہ زندگی دہ
چی محروم شوم ستا لہ سیوری خدائیگو گرانہ زندگی دہ
بے لتا پیکہ پیکہ می باباجانہ زندگی دہ
ہر سہ شتہ خو چی تہ نہ ئی پریشانہ زندگی دہ
بے لتا پیکہ پیکہ می باباجانہ زندگی دہ
اپنے جواں سال بھائی امان اللہ خان کی اچانک موت پہ بھی درد ناک اشعار لکھے ہیں۔ اُن کی جدائی کے دو اشعار ملاحظہ ہوں:
تہ خو دمہ شوے د لمبو د ژوند لہ خارہ لاڑے
مونگ تہ دی پاتی کڑہ لوئی غم، تہ پہ قلارہ لاڑے
تا خپل جانان سعد اللہ خان د زڑہ پہ سر سورے کڑہ
غم تہ دے پریخودہ د ژوند پہ نیمہ لارہ لاڑے
جب کہ اپنی موت کے حوالے سے بھی ان کے کلام میں کئی ایک جگہوں پہ اشارے ملتے ہیں، مثلاً:
سنگ چی زوانی مرگ خاطرؔ خیبر کے شو
خہ بہ وی کہ داسے شوے ایلم کے زہ
یا یہ کہ
د مینے درد لہ زڑہ نہ کلہ ووزی
سڑے چی مڑ شی نو دا ہلہ ووزی
زہ چاتہ نہ وایمہ حال د زڑگی
چغے د خُلے نہ می پہ خپلہ ووزی
کھلی آنکھوں سے خوش رنگ جزیروں کے خواب دیکھنے کے باوجود انہوں نے ایسی آنکھیں بند کیں کہ پھر کھولنا ہی بھول گئے۔ یوں بیتابؔ کی زندگی میں سچ مچ ہی تاب ختم ہوگئی، اور عین جوانی ہی میں ہم سے روٹھ کر چلے گئے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون!