وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا اجلاس، صوبائی وزیر تعلیم شہرام تراکئی، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز اور دیگر متعلقہ حکام کی شرکت، وزیر اعلی کو سکولوں میں ڈبل شفٹس شروع کرنے، محکمے میں ای ٹرانسفر پالیسی کے تحت اساتذہ کے تبادلوں اور دیگر امور پر بریفنگ، ضرورت کی بنیاد پر سرکاری سکولوں میں ڈبل شفٹس شروع کرنے کی اصولی منظوری،
بریفنگ میں کہا گیا کہ سرکاری سکول میں ڈبل شفٹس شروع کرنے کے لئے ایک جامع پالیسی تیار کر لی گئی ہے، پالیسی پر عملدرآمد کے لئے وزیر تعلیم کی سربراہی میں متعلقہ حکام کی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، سکولوں میں ڈبل شفٹس ضروت کی بنیاد پر شروع کیے جائیں گے، کسی بھی سکول کے لئے ڈبل شفٹ کی ضرورت کا تعین کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، ڈبل شفٹس میں پڑھانے کے لئے اسی سکول کے اساتذہ کو پہلی ترجیح دی جائے گی، اسی سکول میں سکینڈ شفٹ کے اساتذہ نہ ملنے پر قریبی سکول سے اساتذہ لئے جائیں گے، ای ٹرانسفر پالیسی کے تحت اساتذہ کے سال میں ایک دفعہ تبادلے ہونگے، ای ٹرانسفر پالیسی کے تحت گریڈ 12 تا 18 تک کے اساتذہ کے تبادلے ہونگے، اجلاس میں گریڈ 19 اور 20 کے اساتذہ کے تبادلوں کا اختیار نچلی سطح پر منتقل کرنے کا اصولی فیصلہ، سال 2014 سے اب تک 86 فیصد سرکاری اسکولوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے، ان ناپید سہولیات میں پینے کا پانی، بجلی، باونڈری والز اور واش رومز شامل ہیں، سال 2018 میں 75 فیصد سکول میں یہ ناپید سہولیات فراہم کی گئی تھیں، گزشتہ دو سالوں میں مزید 11 فیصد سکول میں یہ سہولیات فراہم کردی گئیں ہیں،
وزیر اعلی نے ہدایت دی لہ باقی ماندہ 14 فیصد اسکول میں ناپید سہولیات کی فراہمی کو کم سے کم وقت میں مکمل کیا جائے، وزیر اعلی کے احکامات کی روشنی میں محکمہ تعلیم میں اب تک دو سالوں سے ایک ہی عہدے پر تعینات 850 کلریکل اسٹاف کے تبادلے عمل میں لائے گئے ہیں، مزید 1400 کلریکل اسٹاف کے تبادلے جلد کئے جائیں گے، دو سالوں سے ایک ہی عہدے پر تعینات تمام کلریکل اسٹاف کے تبادلے جلد مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے، صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں یکساں نظام رائج کرنے پر کام کیا جائے، تمام تعلیمی بورڈ میں امتحانات کا سارا نظام یکساں ہونا چاہیے، تعلیمی بورڈز کی خالی آسامیوں کو جلد سے جلد پر کئے جائیں، امتحانی ہالوں میں سی سی ٹی وے کیمروں کی تنصیب پر جلد کام شروع کیا جائے۔