امجد علی سحاب

اس وقت میرے ہاتھ میں ایک تحقیقی مقالہ 64 صفحات پر مشتمل ایک چھوٹے سے کتابچہ ”پشتونوں کا جینیاتی مطالعہ“ کی شکل میں ہے، جس کے مصنف ہیں ”ڈاکٹر محمد الیاس سیٹھی۔“
کتاب کو دس مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
پہلے حصہ میں ”چند وضاحت طلب اصطلاحات“ کے تحت علمِ جینیات، ڈی این اے، جینز، خلیہ، وراثت، وراثتی جینز اور دیگر درجن بھر اصطلاحات پر ضرورت کے مطابق روشنی ڈالی گئی ہے۔
دوسرا حصہ ”جینیات کیا ہے؟“ میں ڈاکٹر صاحب نے علمِ جینیات (Genetics) پر تھوڑی بحث کی ہے۔ نیز جینیات کے عام مقاصد بھی بیان کیے ہیں، جیسے اگریہ جاننا مقصود ہو کہ کسی انسان کے حقیقی والدین کون ہیں، تو اُس انسان کا ولدیت کا دعواکرنے والوں کے ساتھ ڈی این اے میچ کر کے دیکھا جاتا ہے۔ اگر دونوں کے ڈی این اے مماثلت رکھتے ہوں، تو ولدیت کا دعوا درست قرار پاتا ہے۔ اس کے علاوہ مجرم کی شناخت کے لیے بھی مجرم ہی کے ڈی این اے سے مدد لی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ”اگر جائے وقوعہ سے مجرم کا بائیولوجیکل نمونہ ملے، تو اس کا ڈی این اے حاصل کر کے مکمل رپورٹ مرتب کر لی جاتی ہے۔ اس ڈی این اے کو اس خاص کیس میں نامزد ملزمان کے ڈی این اے سے موازنہ کرکے مجرم کی نشان دہی کی جا سکتی ہے۔“
پیدائش سے قبل کسی بیماری کا پتا لگانے کے لیے بھی ڈی این اے ہی کی مدد لی جاسکتی ہے۔ جیسے کہ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ”اگر کسی خاندان میں کوئی موروثی بیماری ہو، تو وہ اپنے بچوں کی پیدائش سے پہلے ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے جان سکتے ہیں کہ ان کے بچے میں بھی یہ بیماری ہوگی یا نہیں۔ اور اس طرح موروثی بیماریوں سے آنے والی نسلوں کو بچایا جا سکتا ہے۔“
اس حصہ میں ڈاکٹر صاحب نے جو سب سے کام کی چیز بیان کی ہے، وہ ہے: ”جینیٹک جینیالوجی“(Genetic Genealogy) اس حوالہ سے ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ”اگر کوئی اپنے آبا و اجداد کے نسلی اور کسی خطہئ ارض سے اپنے تعلق کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہے، تو وہ بھی ڈی این ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہے۔ اسی طرح جیسے شجرۂ نسب سے انسان اپنے آباواجداد کے ناموں کا پتا چلا سکتاہے۔“
قارئینِ کرام! ایک پشتون کی حیثیت سے مجھے کتاب کا جو حصہ قدرے زیادہ دلچسپ لگا، وہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا ”پشتون تاریخ کے آئینے میں“، دوسرا ”پشتون جینیات کے تناظر میں۔“
اس حوالہ سے ڈاکٹر صاحب نے اس چھوٹے سے مقالہ میں اپنی بھرپور کوشش کی ہے کہ دریا کو کوزے میں بند کرے۔ واقعی موضوع دریا ہے، اور مقالہ کوزہ۔ کوزہ سے بابا انتظار حسین مرحوم کی ایک تحریر کا عنوان یاد آیا: ”خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ۔“ مقالہ کو اگر کوزہ فرض کرلیں، تو ڈاکٹر صاحب نہ صرف کوزہ گر ہیں بلکہ گلِ کوزہ بھی ہیں۔
”پشتون تاریخ کے آئینے میں“ میں اُن نظریات کا ذکر کیا گیا ہے، جو پشتونوں کے حوالے سے قائم ہیں۔ یعنی یہ کہ
٭ پشتونوں کا تعلق اسرائیل سے ہے۔
٭ پشتون قتورہ کی اولاد ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ وسلم کی اہلیہ تھی۔
٭ پشتون بنیادی طور پر یونانی نسل سے ہیں۔
٭ پشتون آرین قبیلوں سے ہیں۔
اس بحث کے بعد کتاب کا وہ حصہ شروع ہوتا ہے، جس کا ہر پلٹتے صفحے کے ساتھ دلچسپی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ زیرِ عنوان ٹاپک”پشتون جینیات کے تناظر میں“صفحہ نمبر32 پر ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ”تاریخ میں پشتونوں کے شجرۂ نسب اور ان کی معاشرتی طرزِ زندگی کے بارے میں جتنا الٹا سیدھالکھا جا چکا ہے، اتنا شاید ہی کسی اور قوم کے بارے میں لکھا گیا ہو۔ اس کی وجہ تو آج تک معلوم نہ ہو سکی لیکن دنیا کے سامنے پشتونوں کو ایک عجیب و غریب مخلوق کی شکل میں پیش کیا گیا۔ اس سلسلے میں ہر شخص نے اپنی مرضی کے مطابق تاریخ لکھ ڈالی ہے۔“
ڈاکٹر صاحب بجا فرماتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق سے گرد اڑائی جائے، تو پتا چلتا ہے کہ پشتونوں کی کردار کشی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی ہے۔ چاہے وہ پرانی تاریخ ہو، یا ”مملکتِ خداداد“ کے بعد کی من گھڑت تاریخ ہو۔ مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق محترم سعد اللہ جان برقؔ اپنی کتاب ”پشتون اور نسلیاتِ ہندو کُش“ کے صفحہ نمبر 21 اور 22 پر ایک واقعہ یوں بیان کرتے ہیں: ”یہ مغل بادشاہ جہانگیر کے دور کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ اس کے دربار میں ایران کا ایک سفیر آیا، تو اس نے مغلوں کو خوش کرنے اور خود اپنی دشمنی نکالنے کے لیے پشتونوں کی اصل نسل پر کیچڑ اچھالتے ہوئے ایک قصہ سنایا۔ دراصل مغل اور ایرانی آپس میں حلیف اور پشتونوں کے حریف تھے۔ ایرانی سفیر نے کہا:”قدیم ایران کا ایک بادشاہ تھا ضحاک۔ اُسے کسی نے بتایا کہ مشرق میں کوہِ قاف سے پرے ایک پریوں کا دیس ہے، جہاں کی عورتیں بڑی خوبصورت ہوتی ہیں۔ ضحاک نے اپنے ایک سپہ سالار نریمان کو کچھ لشکر کے ساتھ وہاں سے لڑکیاں لانے کے لیے بھیجا۔ نریمان وہاں پہنچا۔ ایک سو (100) منتخب لڑکیوں کو ساتھ لیا اور واپس ہوا، لیکن رات کو جب کوہِ قاف پہاڑ پر ٹھہرے، تو ایک نابکار دیو نے لڑکیاں چھین کر ان کو بھگایا۔ صبح نریمان نے اپنے منتشر بھگوڑے سپاہیوں کو اکھٹا کیا اور اس دیو پر حملہ آور ہوئے۔ دیو کو بھگایا گیا اور لڑکیاں حاصل کی گئیں۔ جب ضحاک کو اس معاملے کا علم ہوا، تو اس نے کہا کہ چوں کہ ان لڑکیوں کو ایک دیو استعمال کر چکا ہے، اس لیے ان کو اُسی پہاڑ میں لے جا کر چھوڑ دو…… لڑکیاں پہاڑ میں چھوڑ دی گئیں۔ کیوں کہ وہ دیو سے حاملہ ہو چکی تھیں، اس لیے ایک سال بعد ان کے بچے ہوئے پھر ان بچوں سے ایک نسل ہوئی جو یہی پشتونوں کی نسل ہے۔“
ٍ اب ایک اور حوالہ ملاحظہ ہو، یہ ایک تحریر سے لیا گیا ہے جس میں فضل رازق شہابؔ صاحب کچھ یوں رقم کرتے ہیں: ”انڈیا آفس لائبریری لندن کے پرانے جلدوں کے مطالعہ سے مَیں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اُنیسویں صدی کے اکثر برطانوی محققین اس بات پر مصر تھے کہ پٹھان اسرائیل کا ایک قبیلہ ہیں۔ ان کی رائے تھی کہ قیس یا کیئس ساتویں صدی عیسوی کا ایک سردار تھا اور وہ ”افغانہ“ ولد ”جرمیا“ ولد ”ساول“ کی پینتیسویں پشت سے تعلق رکھتا تھا۔ ساول اسرائیل کا پہلا بادشاہ تھا۔ برطانوی ماہرین بھی بیسویں صدی کے آغاز تک اسی نظریے کے حامی رہے کہ پٹھان اسرائیل کے ساتھ کسی نہ کسی طرح تعلق رکھتے تھے۔ اس نظریے کو ان شجرہ ہائے نسب کے تسلسل نے بھی تقویت دی اور پٹھانوں کی اسرائیل کے بزرگوں کے ساتھ صوری مشابہت، ضابطہئ اخلاق کی سختی، باہم مربوط قبائلی نظام اور ”بائبلی ناموں“ کے ساتھ وابستگی جو انہوں نے قرآنِ مقدس سے اخذ کیے تھے، مثلاً آدم، ابراہیم، یعقوب، اسحاق، موسیٰ، عیسیٰ داؤد اور سلیمان وغیرہ۔ ان سب سے متاثر ہوکر ابتدائی انگریز عالموں اور مشنری پادریوں نے یہ رائے قائم کی کہ پٹھان نسلاً بنی اسرائیل ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اور مَیں خود کو بزدل محسوس کر رہا ہوں کہ میں سرحد سے آدھی دنیا کے فاصلے پر یہ بات اپنی کتاب میں لکھ رہا ہوں جو مَیں کبھی ایک پٹھان کے منھ پر کہنے کی جرأت نہ کرسکا۔“
شہابؔ صاحب محولہ بالا پیراگراف کے بعد رقم کرتے ہیں: ”درجِ بالا سطور مَیں نے جیمز ڈبلیو سپین کی کتاب ”دی وے آف دی پٹھان“ سے اخذ کی ہیں۔ یہ کتاب رابرٹ ہیل لمیٹڈ 63، اولڈ برامپٹن روڈ ایس ڈبلیو 7، لندن نے 1962ء میں شائع کی، صفحات27، 28۔“
واپس مقالہ کی طرف آتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ”پشتونوں کا جینیاتی مطالعہ“ کے صفحہ نمبر 32 اور 33 پر لکھتے ہیں: ”جہاں بہت سارے تاریخ دان یہ بات ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ پشتون کسی دیویا جن کی اولاد نہیں بلکہ ابنِ آدم ہی کی اولاد میں سے ایک نسل ہیں، وہاں بہت سے لوگ اس بات پر سختی سے اٹکے ہوئے ہیں کہ پشتون بنی اسرائیل کی اولاد ہیں جس کو وہ تاریخ، زبان، لہجہ اور ثقافت کی مدد سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ بنی اسرائیل اور پشتونوں کے بیچ رشتہ ہونے پہ سب سے زیادہ زور 2006ء میں پڑا جب ایک ہندوستانی طالب علم نوراس آفریدی نے تاریخ کے شعبے میں پی ایچ ڈی کرنے کے دوران میں یہودیوں کے دس گمشدہ قبیلوں پر تحقیق کی۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پشتون یہودیوں کے دس قبیلوں میں سے ایک قبیلہ ہے اور بنی اسرائیل کی اولاد ہیں۔ جس کا ثبوت انہوں نے ان دو قوموں کے رہن سہن، ثقافت اور زبان کی بنیاد پردیا۔ اپنے کچھ انٹرویوز اور بلاگز میں انہوں نے یونیورسٹی آف لندن کے کچھ پروفیسروں کا ذکر کیا ہے جس کو نوراس آفریدی نے انڈیا کے پشتونوں ”آفریدی“ کے خون کے کچھ نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیجے۔ انہوں نے مذکورہ نمونوں کو بنی اسرائیل اور پشتونوں کے بیچ کا رشتہ ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے استعمال کرنا تھا۔ لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس جینیاتی مطالعے کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نوراس آفریدی نے اپنی پرانی کتابی باتوں کی بنیاد پر مفروضہ پیش کیا جس میں وہ پشتونوں کو بنی اسرائیل کی اولاد ثابت کرنے کے ثبوت کے طور پہ استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن جینیاتی مادے (DNA) کی بنیاد پر شاید وہ اپنے مفروضے کو تقویت دینے میں ناکام رہے۔ اس لیے وہ رپورٹ کسی سرد خانے کی نذر ہو گئی۔“
قارئینِ کرام! یہ مقالہ پڑھنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ ڈاکٹر محمد الیاس سیٹھی وہ اولین پشتون ہیں جنہوں نے جینیاتی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ پشتون بنی اسرائیل کی اولاد نہیں۔
اپنے تحقیقی مقالہ ”پشتونوں کا جینیاتی مطالعہ“ کے صفحہ نمبر 61 پر ڈاکٹر صاحب ”اختتامیہ“ کے زیرِ عنوان لکھتے ہیں: ”پشتون قوم کی تاریخ لکھنے والے مختلف مؤرخین کے من گھڑت قصوں نے پشتونوں کی اصلیت کو اتنا الجھا دیا ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں کوئی ایسی مستند کتاب نہیں ملتی جس پر سب کا اتفاق ہو۔ لیکن جتنا بھی اس کے بارے میں تفصیل سے تاریخی حوالوں اور ثبوتوں کی مدد سے وضاحت کی گئی ہے، اس سے پشتونوں کو ”آرین“ سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ پشتون قبائل کی اپنی مخصوص خصوصیات کی بنیاد پر ہم ان کو آرین قبائل میں یا جنوبی ایشیائی ممالک کے ایک مخصوص قبیلے میں انفرادی قبیلہ یا قوم سمجھ سکتے ہیں، جس کی تصدیق ہماری تحقیق سے بھی ہو چکی ہے۔“
قارئین کرام! کتاب ”پشتونوں کاجینیاتی مطالعہ“ شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز سوات مارکیٹ جی ٹی روڈ مینگورہ سوات (0946-722517, 0946-729448) کے علاوہ ”پشتو اکیڈمی بک شاپ“ پشاور یونیورسٹی (0342-8717008) سے باآسانی دستیاب ہوسکتی ہے۔