ڈاکٹر سلطانِ روم
ونسٹن ایس چرچل برطانیہ کا ایک مشہور سیاست دان اور وزیراعظم گزرا ہے۔ اس نے دوسری جنگِ عظیم میں بہ حیثیت وزیراعظم جرمنی کا مقابلہ کرنے، اُسے شکست سے دوچار کرنے اور اتحادیوں کو فتح سے ہم کنار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم اس کی شہرت دوسری جنگ عظیم میں بحیثیت وزیراعظم اس کے کردار اور کامیابی سے بہت پہلی کی ہے جس کی وجہ ابتداً کیوبا کی جنگ سے متعلق اس کی رپورٹنگ تھی، لیکن اصل سبب 1897ء میں سوات اور باجوڑ سے متعلق اس کی وہ رپورٹنگ ہے جو پہلے الہ آباد کے پانیئر اور لندن کے ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع ہوئی اور بعد میں ترمیمات اور اضافہ جات کے ساتھ “The Story of the Malakand Field Force” کے نام سے کتابی شکل میں چھپی۔
ہوا یوں کہ 1897ء میں پختون قبائل میں انگریز حکومت کے خلاف ہندوستان کی شمال مغربی سرحد پر وزیرستان تا سوات شورش کی ایک لہر اُٹھی۔ اس کی پہلی کڑی جون 1897ء میں وزیرستان میں مائیزر کے علاقہ میں انگریز پولی ٹیکل افسر اور فوجی دستہ پر حملہ اور نتیجتاً پیدا ہونے والی لڑائی تھی۔ اس کے بعد جولائی 1897ء میں سرتور فقیر کی سرکردگی میں سوات کے لوگوں نے سوات سے ملاکنڈ اور چکدرہ کی انگریز چوکیوں پر حملے کیے جس کی وجہ سے ایک ہفتہ تک جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں اگر برطانوی فوج کی مدد کے لیے ہندوستان سے فوجی دستے بھیجے گئے، تو بونیر اور باجوڑ تک کے لوگ سوات کے حملہ آوروں کی کمک اور امداد کے لیے ملاکنڈ اور چکدرہ پہنچے۔ برطانوی فوج نے مسلسل اور سخت مزاحمت اور لڑائی اور ہندوستان سے کمک پہنچنے کی بدولت یکم اگست 1897ء کو ملاکنڈ اور 2 اگست کو چکدرہ سے حملہ آور قبائل کو پسپا کرکے منتشر ہونے اور گھروں کو واپس لوٹنے پر مجبور کردیا۔ بعد ازاں اگست 1897ء میں مہمند، آفریدی اور اورکزئ قبائل نے انگریزوں کے خلاف شورش اور حملے کرکے ان کے لیے سخت مشکلات پیدا کیں۔ پختون قبائل کی یہ شورش، یلغار اور حملے اگر چہ آخرِکار ناکام بنادیے گئے اور برطانوی افواج ان قبائل کو پسپا کرنے میں کامیاب ہوگئیں لیکن یہ شورش اپنے پیچھے بعض وقتی لیکن کئی ایک دور رس نتائج و اثرات چھوڑ گئی۔
ان وقتی اور دور رس اثرات و نتائج کے علاوہ یہ شورش اپنے پیچھے کئی افسانوں اور رومانوی داستانیں بھی چھوڑ گئی جن میں سے بعض نے تو گویا حقیقت اور عقائد کی شکل اختیار کی۔ ان افسانوی اور رومانوی عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ ونسٹن چرچل 1897ء کی شورش کے وقت اُس برطانوی فوجی دستوں میں شامل تھا، جنہوں نے ملاکنڈ میں قبائل کے حملوں کے بدلے میں مزاحمت کی اور مقابلہ کیا اور اس نے جو رپورٹنگ کرکے الہ آباد سے ’’پانیئر‘‘ اور لندن سے ’’ڈیلی ٹیلی گراف‘‘ میں شائع کی (جو بعد میں کتابی صورت اختیار کرگئی) یہ ان کے آنکھوں دیکھے احوال کی رپورٹنگ ہے اور یہ کہ وہ جس چوکی میں ٹھہرے تھے، وہ انہی کے نام سے چرچل پکٹ کے نام سے موسوم ہے۔
اس رومانوی اور افسانوی خیالات کو موجودہ دور کے بعض مصنفین اور معزز اہلِ قلم کی تحاریر نا دانستہ طور پر حقیقت کا روپ دینے اور ایک تاریخی سچائی بنانے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ مثال کے طور پر محمد پرویش شاہین صاحب کی کتاب ’’دیر کوہستان‘‘ میں ’’یادگارِ چرچل‘‘ کے عنوان کے تحت صفحہ 60 پر تحریر ہے کہ
’’اس وقت مشہور انگریز مسٹر چرچل جو کہ بعد میں برطانیہ کے ایک نام آور سیاستدان اور وزیراعظم بن گئے، بڑی کم عمری میں اس جنگ کا حال برطانیہ کے اخبارات کے لیے لکھتے اور بھیجا کرتے تھے۔ چرچل نے یہاں کافی شہرت پائی اور اپنی قوم کی خاطر برستی گولیوں کے سائے میں کام کرتے رہے۔ چرچل نے یہاں جو کچھ دیکھا تھا اور ان پر جو کچھ گزری تھی۔ ان کو اپنی دو مشہور کتابوں “May early life” اور “Malakand Field Force” میں نہایت شستہ زبان اور بہترین سٹائل میں درج کیا۔ ان دو کتابوں نے ان کو ایک لافانی شہرت بخشی۔‘‘
اس طرح محمد اعجاز قاسم نے چرچل کی کتاب ’’دی سٹوری آف ملاکنڈ فیلڈ فورس‘‘ کے پشتو ترجمہ (جو کہ ’’دی ہسٹری آف ملاکنڈ فیلڈ فورس‘‘ کے غلط نام سے شائع ہوئی ہے) پر اپنے تاثرات میں چرچل کی اس کتاب کو اس کی فوجی خدمات کے وقت ان پختون علاقوں میں لڑائیوں کی آنکھوں دیکھی روئیداد قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو چرچل کی مذکورہ کتاب کا پشتو ترجمہ از شہباز محمد، صفحہ ب)۔ اسی طرح کتاب کے مترجم شہباز محمد صاحب نے بھی اپنی ابتدائیہ میں صفحہ 1 پر یہ تحریر کیا ہے کہ ونسٹن چرچل 1897ء کی ملاکنڈ کی لڑائی میں لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شامل ہوئے تھے اور ڈیلی ٹیلی گراف اور پانیئر کے سرکاری نامہ نگارکی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔
اس عینی شاہد نے یہ کتاب سال 1897ء میں لکھی اور 1898ء میں شائع کی تھی۔
جب کہ محمد نواز طاہرؔ صاحب نے بھی اس ترجمہ کے لیے لکھے گئے اپنے تاثرات میں لکھا ہے کہ 1897ء میں ملاکنڈ کی مہم کا ایک عینی گواہ جو بہ نفس نفیس اس مہم میں انگریز فوج کا ایک سرکردہ رکن تھا اور بعد میں عالمی تاریخ میں اپنے لیے ایک بڑے لیڈر کے طور پر دائمی مقام حاصل کیا۔ یہ ان دنوں کا ایک نوجوان افسر لیفٹیننٹ ونسٹن چرچل تھا۔ اس نے ذاتی مشاہدہ پر اپنے نقطۂ نظر سے اس مہم کا جو آنکھوں دیکھا احوال اپنی اس کتاب میں محفوظ کیا ہے، وہ پختونوں کے لیے عبرت ناک بھی ہے اور فکر انگیز بھی اور یہ کہ ملاکنڈ مہم کے متعلق ونسٹن چرچل کی لکھی ہوئی یہ کتاب جو اس مہم اور استعماری استبدادیت کا آنکھوں دیکھا احوال ہے۔۔۔ (ملاحظہ ہو مذکورہ کتاب کے پشتو ترجمہ کے صفحات 9,8)۔
اگر چہ مسٹر چرچل برطانوی فوج میں لیفٹیننٹ کے عہدہ پر فائز تھا، تاہم “John Marsh” کی کتاب “The Young Winston Churchill” اور “Charles Eade” کی ایڈٹ کردہ کتاب “Churchil: By his contemporaries” سے پتا چلتا ہے کہ ملاکنڈ کی لڑائی کے وقت چرچل نہ تو ملاکنڈ میں تھے اور نہ ہی ہندوستان میں۔ اس وقت وہ مئی کے مہینہ سے فوج سے چھٹی پر انگلستان گئے ہوئے تھے۔ اس لڑائی کی خبر اُسے انگلستان ہی میں گوڈووڈ (Goodwood)میں ریس کورس میں اخبار کے ذریعے ملی، جس پر اس نے ایک انگریزی اعلیٰ فوجی افسر بنڈن بلڈ سے رابطہ کیا۔ جنہوں نے 1895ء میں ملاکنڈ میں سوات کے لوگوں کے خلاف جنگ لڑی تھی اور کچھ 18 ماہ قبل ایک ملاقات میں چرچل سے سرحد میں ہونے والی لڑائی کی صورت میں ساتھ لینے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے کہ اس طرح کی لڑائی میں شمولیت کی چرچل کو بہت خواہش تھی۔
چرچل کی بدقسمتی سمجھ لیجیے کہ جس موقع کا وہ شدید منتظر تھا، اُس وقت وہ نہ صرف یہ کہ موقع پر موجود نہیں تھا بلکہ سات سمندر پار انگلستان میں تھا۔ تاہم ملاکنڈ میں لڑائی کی خبر ملتے ہی اُس نے بلاتأمل ’’گوڈووڈ‘‘ چھوڑ کر لندن کی راہ لی اور وہاں سے ’’بنڈن بلڈ‘‘ سے ٹیلی گرام کے ذریعہ رابطہ کی کوشش کی اور اُسے اس کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے اس کے دستہ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ جواب کا انتظار کیے بغیر چرچل لندن سے ہندوستان کے لیے روانہ ہوا اور خلافِ توقع اس کی شدید خواہش کے باوجود اُسے راستہ میں بھی کسی بھی پڑاؤ پر بنڈن بلڈ کا جواب موصول نہیں ہوا۔
بمبئی پہنچنے پر 22 اگست 1897ء کو اسے بنڈن بلڈ کا پیغام ملا جس میں خلاف توقع بتایا گیا تھا کہ “Very difficult. No vacancies. come up as a correspondent. will try to fit you in.”یعنی ’’بات بہت مشکل ہے۔ سٹاف میں کوئی خالی آسامی نہیں۔ لہٰذا ایک نامہ نگار کی حیثیت سے آجاؤ۔ بعد میں کوشش کی جائے گی کہ آپ کو کھپایا جائے (ملاحظہ ہو “Charles Eade”کی ایڈٹ کردہ کتاب “Churchil: By his contemporaries” صفحہ 50)
(جاری ہے)