سوات: وادی سوات میں سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے بعد روایتی کھانوں اور ناشتے کا کاروبار کرنے والے مقامی دکاندار ان دنوں بہت خوش نظر آرہے ہیں۔

سوات میں مقامی روایتی کھانوں میں ، میٹھی روٹی سے بنے کاکوڑی سیاحوں میں مقبول ہور ہے ہیں ، جو ملک کے مختلف حصوں خصوصا صوبہ پنجاب اور سندھ سے سوات آتے ہیں۔

بریکوٹ بازار کے قریب سڑک کنارے ایک نوجوان فروش اسد خان نے بتایا کہ اس موسم میں میرا کاکوڑی بیچنے کا کاروبار عروج پر ہے کیونکہ بہت سارے سیاح اسے چائے کے ساتھ کھانا پسند کرتے ہیں۔ سوات آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے فروخت اچھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے دادا بھی کاکوڑی سڑک کے کنارے بیچتے تھے۔ “ہماری ککوڑی مقامی لوگوں میں بہت مشہور ہے۔ اسے چائے کے ساتھ کھایا جاتا ہے کیونکہ دوسرے حصوں کے لوگ چائے کے ساتھ کیک یا بسکٹ کھاتے ہیں۔

اسد خان نے مزید بتایا کہ وہ 20 روپے میں ایک ککوڑے بیچتا ہے ۔ اور وہ عام طور پر روزانہ تقریبا سو ۱۰۰ عدد بیچ دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ، “یہاں آنے والے سیاحوں کو چائے پینے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے رکنا پڑتا ہے ، کیونکہ گرما گرم ککوڑی چائے اور چائے کے بغیر کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے اور اسی وجہ سے میں اسے یہاں سڑک کنارے پکا کر بیچتا ہوں۔”

گندم کا آٹا ، چینی یا گڑ ھ، ناریل ، تیل یا گھی اور روٹی کا سوڈا ککوڑی کا سب سے اہم جز ہے۔ جو اس میں ملاکر اس کا کمبیر بنا کر پھر پکایا جاتا ہے یہ سوات اور پختونوں کے دیگر حصوں کا روایتی کھانا ہے۔ یہ بنیادی طور پر پکوڑوں کی طرح تیار ہوتا ہے

“سوات میں جب ایک بچہ پہلی بار پیدل چلنا شروع کرتا ہے یعنی پہلا قدم لیتا ہے تو اس گھر کی خواتین جمع ہوکر اس موقع کو منانے کے لئے ککوڑی کو بڑی تعداد میں پکا کر تیار کرتی ہیں۔ وہ اسے رشتہ داروں اور پڑوسیوں میں بانٹتے ہیں۔

“شاہ زیب راولپنڈی کا ایک سیاح جو بریکوٹ میں چائے کےاسٹال پر بیٹھا تھا نے کہا کہ میں اور میرے دوستوں نے سوات کا دورہ کیا اور ککوڑی کو چائے کے ساتھ نوش فرمایا ۔ وہ سب اس کے زائقے کے تعریف کر رہے تھے۔ جب میں سوات آیا تو میں نے ایک دوست سے اس کے بارے میں پوچھا اور اس نے مجھے یہ مقام دکھایا کہ ککوڑی کو یہاں بریکوٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے میں نے ایک کپ چائے کے ساتھ دو ککوڑی کھائے۔یہ واقعی سوادش ہے ،

انہوں نے کہا کہ وہ ککوڑی کو اپنے گھر والوں کے لئے بطور تحفہ لے کر جائیں گے۔