الدین، صلاح، محمد ریاض خان الازہری

سوات پاکستان کا ایک دلکش علاقہ ہے۔ اس کی رعنائی اور حسن نے ماضی میں کئی نامور فاتحین کو اپنی طرف متوجہ کیا جن میں سکندر اعظم یونانی اور سلطان محمود غزنویؒ قابل ذکر ہیں۔ آریاؤں، یونانیوں اور دراوڑوں کے علاوہ یہ علاقہ منگولوں کا مسکن بھی رہا ہے۔ یہاں کئی تہذیبیں پروان چڑھیں اور زمانے کی بے ثباتی کی نذر ہوگئیں۔ ہندومت اور بدھ مت جیسی بڑی تہذیبیں یہاں کی یادگار ہیں۔ سلطان محمود غزنویؒ کی آمد سے یہاں اسلام کا جھنڈا بلند ہوااور تقریباً ایک ہزار سال سے یہاں اسلام کی شمع فروزاں ہے۔

سوات کے نام کے حوالے سے مختلف رائے ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ لفظ سواد سے نکلا ہے جس کا مطلب عربی زبان میں وہ سبزہ جوسیاہی مائل ہو۔ لیکن اس توجیہ کو بعض وجوہ کی بنا پر رد کیا جاتا ہے[1]۔ زیادہ تر قیاس یہی ہے کہ یہ لفظ سواستو سے بنا ہے۔ سواستو عہد قدیم میں چینی سیاح دریائے سوات کو کہتے تھے۔ یہ خیال عام ہے کہ سواستو (Sawastu) دراصل لفظ سویتا (Sweta) سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے سفید یا شفاف پانی۔ یہاں پانی اور ندی نالوں کی فراوانی کی وجہ سے شاید یہ نام پڑا ہوگا۔[2]

قدیم کتابوں میں اس علاقے کا نام اودھیانہ بتایا گیا ہے۔ اودھیانہ کا مطلب ہے باغ یا گلستان۔ ظاہر ہے کہ یہ نام بھی اسم بامسمیٰ ہے۔ بدھ مت کے دور سے یہ علاقہ روحانی امور اور فضائل کے لیے مشہور ہے۔ سوات کی اصل تاریخ تو بہت پرانی ہے تاہم اسکندر اعظم یونانی کے دور سے اس کی تاریخ کے کئی گوشے ہمارے سامنے آتے ہیں۔

ضلع سوات کا جغرافیہ

سوات کو 1969ء میں پاکستان کے ساتھ مدغم کرکے ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔ اس وقت کل رقبہ5337 مربع کلو میٹر ہے۔ سوات کے مشرق میں ضلع شانگلہ، مغرب میں ضلع دیر اور ملاکنڈ ایجنسی، شمال میں چترال اور جنوب میں بونیر واقع ہےجبکہ جنوب مشرق میں سابق ریاست امب’’ دربند‘‘ کا خوبصورت علاقہ واقع ہے۔سوات کی کل آبادی تقریباً تئیس لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔98720 ایکڑ رقبہ قابل کاشت ہے جس پر گندم مکئی اور چاول کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔

سوات میں بدھ مت

32 قبل مسیح سکندر اعظم ایران کے راستے افغانستان پہنچااور کابل کو فتح کرنے کے بعد کنڑ کے راستے سوات کا رخ کیا۔ تب سوات میں بدھ مت رائج تھی۔ اس وقت کے بدھ حکمران راجہ آرنس نے تیس ہزار افراد کے ساتھ سکندر کی افواج کا مقابلہ کیا لیکن شکست کھا گیا۔ سکندر نے ہندوستان کی دیگر فتوحات کے بعد سوات بونیر اور دیگر کئی شمالی علاقے راجہ چندر گپت کو دے دیے۔ 45ء میں یہ تمام علاقے راجہ کنشک کی حکمرانی میں تھے۔ راجہ کنشک کے دور میں بھی یہ علاقہ بدھ مت کا گڑھ تھا اور اس میں بدھ مت کے نہایت متبرک مقامات موجود تھے ۔ یہاں بدھوں کے سینکڑوں خانقاہیں تھیں جن کی یاترا کے لیے ہندوستان بھر اور دیگر ممالک سے بدھ یاتری آتے تھے۔ 200ء میں سوات اور بونیر اور ملحقہ علاقہ جات راجا وراٹھ کے زیر تصرف رہے۔ اس کے بعد راجا بیٹی سوات کا حکمران بنا۔ راجا بیٹی کے بعد راجا ھوڈی نے سوات کا زمام اقتدار سنبھالا۔ ھوڈی کے نام پر آج بھی مینگورہ کے مغرب میں ایک گاؤں ھوڈی گرام موجود ہے جسے آج کل اوڈیگرام لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ اس گاؤں میں اُس دور کے کئی اہم آثار قدیمہ کی دریافت ہوئی ہے۔ راجا ھوڈی کے دور میں بھی یہ علاقہ بدھ مت کے زیر اثر تھا۔ ھوڈی کے بعد بدھ مت کے آخری حکمران راجا گیرا کا دور آتا ہے جس کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی یہاں بدھ مت کی شمع گل ہوگئی۔ 403ء میں یہاں آنے والے ایک چینی سیاح فاہین نے لکھا ہے کہ اس وقت سوات میں بدھ مت کا راج ہے۔ اس کے بعد ایک اور چینی سیاح تسانگ ین آتے ہیں اور اپنے سفرنامے میں لکھتے ہیں کہ یہاں بدھ مت کا عروج ہے دریائے سوٹو(سوات) کے کنارے سینکڑوں بدھ خانقاہیں ہیں جن میں ہزاروں بھکشو رہائش پذیر ہیں[3]۔اس سرسبز علاقے میں لوگوں کا گزران کھیتی باڑی کے ذریعے ہوتا ہے۔ اور جب 635ء میں مشہور چینی سیاح’’ ہیون سانگ‘‘ آیا تو اس نے اپنے مشاہدے میں لکھا کہ یہاں بدھ مت زوال پذیر ہے[4]۔یہاں تک کہ آٹھویں صدی عیسوی میں بدھ مت یہاں سے رخصت ہوکر افغانستان کے راستے سے چین جاپہنچا اور وہاں خوب ترقی کی۔ تاہم سوات میں اسلام کی آمد تک بدھ مت کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی[5]۔بدھ مت سوات کو وہ درخشاں دور دکھا چکا ہے جس میں امن وامان اور مذہبی اقدار کا عنصر نمایاں تھا۔

سوات میں ہندو مت

ساتویں صدی عیسوی کے وسط میں بدھ مت کا زوال تیزی سے شروع ہوا۔ اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ یہاں ہندو شاہیہ کا روزافزوں بڑھتا ہوا اثر ورسوخ بھی تھا۔ہندؤوں نے یہاں آکر سیاسی اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے دھرم کی تبلیغ کے لیے راہ ہموار کی اور یوں وہ بدھ مت کو سوات سے دیس نکالا دینے میں کامیاب ہوگئے۔ ہندو شاہیہ کا آخری حکمران ’’راجہ جے پال‘‘ تھا جس کا پایہ تخت سوات کا علاقہ بریکوٹ بتایا جاتا ہے۔ دسویں صدی عیسوی میں ہندومت نے اپنے راج دھانی کو وسعت دیتے ہوئے اسے کابل اور افغانستان تک پھیلادیا تھا۔ راجہ جے پال اس سلسلے کا آخری حکمران تھا جس نے گندھارا پر حکومت کی۔ بریکوٹ میں آثار قدیمہ کی کھدائی میں ملنے والے ایک کتبے پر کندہ سنسکرت زبان کے یہ الفاظ ملے ہیں:

“فرمان روائے اعلیٰ شان عظمیٰ بلند مرتبہ شاہ اور مختار اعلیٰ سری جیپا لادیوا”

جیپا لادیوا سے مراد راجہ جے پال ہے۔ جے پال سے پہلے کون حکمران تھا اس بات سے تاریخ خاموش ہے۔ جے پال سے پہلے یا بعد میں کسی منظم ہندو حکومت کے بارے میں معلومات عنقاء ہیں۔ ہندوشاہیہ کے اس آخری دور کا ایک اور حکمران “راجاگیرا” جس کی راج دھانی ایک مختصر علاقے پر مشتمل تھی، کی حکومت سلطان محمود غزنویؒ کے ہاتھوں ختم ہوئی۔ 

سوات میں اسلام کی آمد

گیارہویں صدی عیسوی میں سلطان محمود غزنویؒ نے فتوحات کا جال ہندوستان تک وسیع کرنے کا ارادہ کیا۔ سلطان محمود غزنویؒ باجوڑ کے راستے سے سوات میں داخل ہوا [7]اس نے سوات میں راجا گیرا کے ساتھ ایک گھمسان کی جنگ کی۔ کہا جاتاہے کہ اس وقت سلطان کو منشائے الٰہی کے مطابق خواب میں بتایا گیا کہ اس جگہ کو اللہ تعالیٰ اس لشکر کے ایک بزگ فوجی کے ذریعہ فتح کرے گا۔ سلطان نے تتبع وتلاش کیا تو اسے اپنی فوج میں پیر خوشحال[8] نامی سپاہی نظر آیا۔ سلطان نے فوراًا س مہم کی کمان پیر خوشحال کے ہاتھ میں دے دی۔ پیر خوشحال نے نہایت احسن تدبیر کے ساتھ اس علاقے کو فتح کیا۔ پیر خوشحال نے اس لڑائی میں جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کا مزار اوڈیگرام گاؤں میں مرجع خلائق ہے۔یہاں ایک داستان مشہور ہے کہ گیرا کی لڑکی نے راستہ دکھایا[9]۔ڈاکٹر سلطان روم کے مطابق سلطان محمود غزنوی کا بذات خود سوات آنا صحیح تاریخ سے ثابت نہیں[10]۔راجہ جے پال سلطان محمود غزنویؒ کے باپ کا دشمن تھا اور سلطان خود بھی اس سے اپنے لیے خطرہ محسوس کرتا تھا چنانچہ اس نے جے پال کے خلاف سوات پر چڑھائی کی اور اسے شکست فاش سے دوچار کیا۔[11]

سلطان محمود غزنوی کی آمد کے ساتھ سوات میں اسلام کی کرنیں پھیل گئیں اور یوں اس علاقے میں مسلمانوں کے عروج کا دور شروع ہوگیا۔ سلطان محمود غزنوی نے سوات میں ایک مسجد بھی تعمیر کی جس کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سب سے پرانی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

(یہ مسجد محمود غزنوی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مسجد اوڈیگرام ، تحصیل بابوزئی، سوات میں پہاڑ کے درمیانی جگہ میں واقع ہے جہاں ایک قلعہ کے باقیات بھی موجود ہیں۔(الباحث)

سوات میں راجہ جے پال کی حکومت کا خاتمہ اور بدھ مت کو اسلام کی راہ دکھانے کا بیڑا سلطان محمود غزنویؒ نے اٹھایا تھا اور اسی نے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ سلطان محمود غزنویؒ کے بہت سے کارناموں میں سے ایک یہ کارنامہ بھی سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔

سوات کی سرزمین آریاوؤں اور دراوڑوں کے تسلط سے ہوتے ہوئے بدھ مت پھر ہندومت اور آخر کار اسلام کے نور سے منور ہوگئی۔ اس کے بعد یہاں مسلمانوں کا معاشرہ قائم ہوگیا ۔ مسلمانوں نے یہاں متمدن زندگی گزاری اور سوات کی خوبصورتی میں ایک شاندار اضافہ کیا۔ 1850ء میں ایک رہنما سید اکبر شاہ نے یہاں شرعی نظام پر مبنی حکومت قائم کی لیکن ان کی وفات کے بعد سوات ایک بار پھر مستقل حکمران اور نظام سے محروم ہوگیا [12]سیداکبرشاہ کی وفات ٹھیک اس دن ہوئی جس دن ہندوستان میں جنگ آزادی شروع ہوئی۔ جسے انگریز غدر کا نام دیتے ہیں۔

سید اکبرشاہ کی وفات کے بعد اس کا بیٹا مبارک علی شاہ حکمران بن گیا۔ لیکن چند ہفتوں کی حکومت کے بعد سوات کے قبائل نے اس کو تخت سے اتار دیا[13]۔ 1914ء میں سید عبدالجبار شاہ کو سوات کی حکومت کی باگ ڈور سونپی گئی لیکن چند مذہبی اور سیاسی وجوہات کی بناء پر عوام کی طرف سے انہیں اس منصب سے معزول کردیا گیا۔ سید عبدالجبار شاہ کے بعد سن 1917 ء میں میاں گل عبدالودود[14] نے ایک منظم ریاست کی داغ بیل ڈال دی اور اس کے ساتھ ریاست سوات ترقی کی پٹڑی پر چڑھتا گیا۔ 12 دسمبر 1949ء کو میاگل عبدالودود نے منصب اقتدار سے دستبردار ہوکر اپنے بیٹے ولی عہد محمد عبدالحق جہانزیب کو سوات کا والی مقرر کیا۔ عبدالحق جہانزیب کے دور میں سوات نے تعلیم اور انفراسٹرکچر میں بہت ترقی کی جس سے آج بھی سوات کے عوام مستفید ہورہے ہیں۔[15]

ضلع سوات کے آثارِ قدیمہ

سوات میں اقوام ماضیہ کے کئی آثار پائے جاتے ہیں۔ ان آثار میں بہت سارے تو اب تک زمین کے سینے میں دفن ہیں لیکن لوگوں کی کوششوں سے کئی اہم آثار کو دریافت کرکے منصہ شہود پر لایا جاچکا ہے۔ سوات کی سرزمین جہاں ایک طرف حسین سبزہ زاروں اور فلک بوس پہاڑوں کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے تو دوسری طرف اس کی تاریخی حیثیت بھی دنیا میں اپنا وجود منوانے کے لیے کافی ہے۔

سوات میں پائے جانے والے بے شمار آثار قدیمہ میں سٹوپا، وہاڑا اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ سوات میں یہ آثار جابجا پھیلے ہوئے ہیں جن میں شنگردار، بت کڑہ، نیموگرام، شرارہ، شناشا، مالم جبہ، کبل، مانیار اور شموزو اہم ہیں۔ ان آثار کی تفصیل یہاں درج کی جاتی ہے۔

بریکوٹ

بریکوٹ کشان عہد سلطنت(دوسری صدی قبل مسیح) میں آباد ہوا۔ بریکوٹ سوات میں بدھ مت اور ہندومت کے قدیم آثار کی بہت بڑی آماجگاہ ہے۔ بریکوٹ میں شنگردار سٹوپا اور املوک درہ سٹوپا کافی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ سٹوپا اور اس سے متعلق دیگر آثارِ قدیمہ اپنی اصل شکل میں محفوظ ہیں۔ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود یہ کھنڈرات زمانے کے دست برد سے محفوظ رہے ہیں۔ لوگوں نے بھی ان پر بہت کم طبع آزمائی کی ہے۔ بریکوٹ کا قدیم نام بازیرہ ہے۔ یہاں کے آس پاس کے تمام چھوٹے بڑے گاؤں تاریخی اہمیت کے حامل ہیں کیوں کہ ان میں قدیم تاریخی نوادرات کی بہتات ہے۔[16]

بت کڑہ سٹوپا

جس طرح آج سیدو شریف سوات کا دارالحکومت اور مرکزی مقام ہے اسی طرح ماضی میں بدھ مت اور ہندومت کے ادوار میں بھی اس کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ سیدوشریف کے ایک تاریخی مقام بت کڑہ (موجودہ گل کدہ) میں قدیم آثار کی ایک بہت ہی خوشنما اور نہایت واضح تصویر ملتی ہے۔ یہاں کے سٹوپا، تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں اور بدھ مت دور کے ہاسٹل وغیرہ کے آثار پائے گئے ہیں۔ اٹالین آرکیالوجکل مشن نے 1956ء میں ڈاکٹر فسینا کی سربراہی میں اس مقام کو دریافت کیا تھا اور 1962ء تک انہوں نے اس کو زمین کے تہہ سے نکال کر عبرت گاہِ عالَم بنادیا۔

پانڑ میں بدھ مت کے آثار

مینگورہ سے تقریباً چار کلومیٹر مشرق کی طرف جاتے ہوئے جامبیل روڈ پر پانڑ کی طرف جایا جاتاہے۔ یہاں کہیں پہاڑوں کو تراش کر اور کہیں ہموار زمین میں بدھ مت کے پیروکاروں نے اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں۔ ان آثار کی تاریخ پہلی صدی عیسوی سے پانچویں صدی عیسوی کے درمیان ہے۔

شنگردار سٹوپا

GTروڈ کے دائیں جانب شنگردار کے حسین اور سرسبز مقام پر بدھ مت کا یہ عظیم سٹوپا ایستادہ ہے۔162 فٹ قطر اور 90 فٹ اونچا یہ سٹوپا سوات کا سب سے بڑا سٹوپا ہے۔ شنگردار تبتی لفظ شنگریلا سے نکلا ہے ، مطلب “دیوتاؤں کی جگہ” ۔ اس سٹوپا کے حوالے سے ایک بات مشہور ہے کہ اس میں مہاتما بدھا کی کچھ راکھ دفن ہے[20]۔ 1895ء میں ملاکنڈ ڈویژن کے پولیٹیکل ایجنٹ کرنل ڈین نے سر اورل سٹائن کے ساتھ مل کر اس سٹوپا کو دریافت کیا تھا۔

گمبتونہ (شموزو) سٹوپا

کبل سے مغرب کی طرف شموزی روڈ پر “ڈیڈہ ور” گاؤں کے قریب گمبتونو نامی مقام پر بدھ مت دور کا ایک سٹوپا ایستادہ ہے۔ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کہ وجہ سے لوگوں نے اس کو اندر سے کھوکھلا بنادیا ہے تاہم اس کی ظاہری شکل کچھ محفوظ ہے۔ اس سٹوپا کے آس پاس پہاڑوں میں دیگر آثار بھی موجود ہیں۔

نیموگرام کے آثار قدیمہ

مینگورہ سے مغرب کی طرف 45 کلومیٹر کے فاصلے پر شموزی سے گھڑئی خزانہ کی طرف جاتے ہوئے نیموگرام گاؤں جسے لوگ سبوخپہ بھی کہتے ہیں، میں کئی ہزار سال پہلے کے آثار دریافت کیے گئے ہیں۔ ان آثار قدیمہ کو1967-68میں دریافت کیا گیا۔ یہاں تین مرکزی سٹوپا ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ تقریبا 56 مزید چھوٹے بڑے سٹوپے اور چبوترے ہیں۔ یہ آثار بدھ مت دور کے ہیں جن کی تاریخ 720ء بتائی جاتی ہے۔ 

شاہ ڈھیرئی کبل کے آثارِ قدیمہ

شاہ ڈھیرئی تحصیل کبل میں پرانے دور کے کھنڈرات، سٹوپا اور سکے دریافت ہوچکے ہیں۔ یہاں مختلف پتھروں پر کندہ نامانوس سی اشکال اور الفاظ بھی کندہ ہیں۔ 2 کلومیٹر ایک نہر کے آثار بھی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پرانے لوگ آبپاشی کے لیے مناسب تدابیر کرتے تھے۔

رام تخت(ایلم پہاڑ)

سطح سمندر سے 9250 فٹ بلندی پر واقع اس چوٹی پر ہندؤوں اور سکھوں کا مشترکہ مقدس مقام رام تخت واقع ہے۔ایلم پہاڑ کی یہ چوٹی سوات اور بونیر کے درمیان حد فاصل ہے[23]۔سوات میں ملٹری آپریشن سے قبل یہاں ہرسال سینکڑوں یاتری آیا کرتے تھے لیکن اب یہ روایت مٹ چکی ہے۔سکھ لوگ اس میلے کو بیساکھی کا نام دیتے تھے جبکہ ہندؤوں کے ہاں یہ ساون سنگران کے نام سے مشہور ہے۔ رام تخت کو جوگیانو سر بھی کہا جاتا ہے۔یہاں رام چندر نے اپنی بیوی ” سیتا” کے ساتھ بَن باس[24] کیا تھا۔

مالم جبہ کے آثار قدیمہ

ملم جبہ یا مالم جبہ سوات کا ایک پُرفضا مقام ہے۔ دراصل ملم الگ گاؤں ہے اور جبہ الگ لیکن لوگوں نے دونوں ناموں کو یکجا کرکے ملم جبہ بنادیا۔ یہاں حکومت پاکستان نے سیاحوں کی دلچسپی کے لیے ایشیا کا پہلا سکائی انگ(Sky Ing) پلیٹ فارم بنایا ہے۔ سیاح سردی کے موسم میں برف باری کا منظر دیکھنے کے لیے یہاں پہنچتے ہیں اور برف میں پھسلن کا کھیل کھیلتے ہیں۔ ملم جبہ میں چشموں سے نکلنے والا پانی نہایت شیریں اور یخ بستہ ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگ ملنسار اور مہمان نواز ہیں۔ ملم جبہ میں جہان آباد کے مقام پر گوتم بدھ کا ایک مجسمہ ہے جو پہاڑ کو تراش کر بنایا گیا ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ دنیا کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے۔اس مجسمے کی تاریخ چھٹی یا ساتویں صدی عیسوی ہے۔327 قبل مسیح سکندر اعظم نے اس گاؤں پر حملہ کیا تھا اور یہاں کے بدھ راجہ کو شکست دی تھی۔ 1515ء سے قبل منگلور جہانگیری سلطان اویس کا صدر مقام تھا

اسلام میں آثار قدیمہ کی حیثیت

اسلام ایک پُرامن دین ہے۔ اس دین میں جہاں پر مسلمانوں کی حقوق کی بات کی گئی ہے وہاں غیرمسلموں کو بھی ان کے جائز حقوق دینے پر زور دیا گیا ہے۔ کسی بھی غیرمسلم کو بلاوجہ تنگ کرنا اور اس کے حقوق کی پامالی کرنے کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اسلامی فقہی لٹریچر میں باب الذمہ کے اندر اسلامی سلطنت کے اندر رہنے والے غیرمسلموں کے مفصل احکام بیان کردیے گئے ہیں اور بنیادی حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے جب کہ حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ اُ ن کے ذاتی معاملات مثلاً عبادات اور شادی بیاہ وغیرہ جیسی رسومات میں مداخلت نہ کرے۔ بعینہٖ ان کے عبادت گاہوں اور خانقاہوں کی حفاظت بھی مسلم معاشرے اور حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔ اسلام نے غیرمسلموں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے روکا ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر تم ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاؤگے تو رَدِعمل کے طور پر وہ بھی اسلام کے بارے میں بدزبانی کریں گے جس کو تم برداشت نہ کرسکوگے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ”[27]

’’جن معبودوں کو یہ اللہ کے بجائے پکارتے ہیں ، تم اُن کو برا نہ کہو، جس کے نتیجےمیں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے آگے بڑھ کر اللہ کو برا کہنے لگیں۔ (اس دنیا میں تو) ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے عمل کو اس کی نظر میں خوشنما بنارکھا ہے ۔ پھر ان سب کو اپنے پروردگار ہی کے پاس لوٹنا ہے۔ اُس وقت وہ اُنہیں بتائے گا کہ وہ کیا کچھ کیا کرتے تھے‘‘۔ [28]

اسلام نے تمام مذاہب کے احترام کا حکم دیا ہے۔ اسلام غیرمسلموں کی عبادت میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ اسلام انہیں مذہبی رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے، ان کی عبادت گاہوں کی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کی جان ومال کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب بیت المقدس کو فتح کیا تو آپ نے وہاں کے غیر مسلم رعایا کے لیے ایک عہد نامہ لکھ کر دے دیا۔

اس عہد نامے کے الفاظ تاریخ میں اس طرح درج ہیں:

’’بسم اللَّه الرحمن الرحيم هذا ما أعطى عبد اللَّه عمر أمير المؤمنين أهل إيلياء من الأمان، أعطاهم أمانا لأنفسهم وأموالهم، ولكنائسهم وصلبانهم، وسقيمها وبريئها وسائر ملتها، أنه لا تسكن كنائسهم ولا تهدم، ولا ينتقص منها ولا من حيزها، ولا من صليبهم، ولا من شيء من أموالهم، ولا يكرهون على دينهم، ولا يضار أحد منهم، ولا يسكن بإيلياء معهم أحد من اليهود، وعلى أهل إيلياء أن يعطوا الجزية كما يعطي أهل المدائن، وعليهم أن يخرجوا منها الروم واللصوت، فمن خرج منهم فإنه آمن على نفسه وماله حتى يبلغوا مأمنهم، ومن أقام منهم فهو آمن، وعليه مثل ما على أهل إيلياء من الجزية، ومن أحب من أهل إيلياء أن يسير بنفسه وماله مع الروم ويخلي بِيَعهم وصلبهم فإنهم آمنون على أنفسهم وعلى بيعهم وصلبهم، حتى يبلغوا مأمنهم، ومن كان بها من أهل الأرض قبل مقتل فلان، فمن شاء منهم قعدوا عليه مثل ما على أهل إيلياء من الجزية، ومن شاء سار مع الروم، ومن شاء رجع إلى أهله فإنه لا يؤخذ منهم شيء حتى يحصد حصادهم، وعلى ما في هذا الكتاب عهد اللَّه وذمة رسوله وذمة الخلفاء وذمة المؤمنين إذا أعطوا الذي عليهم من الجزية شهد على ذلك خالد بْن الوليد، وعمرو بْن العاص، وعبد الرحمن بْن عوف، ومعاوية بْن أبي سفيان وكتب وحضر سنة خمس عشرة‘‘۔[29]

’’امیر المؤمنین عمر بن الخطاب کی طرف سے اہل ایلیا کے جان، مال ان کے کلیساؤں،صلیبوں اور ان کی ساری ملت کو امان دی گئی ہے۔ نہ ان کے گرجوں کوبند کیا جائے گا اور نہ گرایا جائے گا۔ ان کے احاطوں میں کو ئی کمی نہیں کی جائے گی، نہ ان کے صلیبوں سے کوئی تعرض کیا جائے گا، نہ ان کے اموال میں سے کوئی چیز چھینی جائے گی۔ ان میں کسی کو اپنا دین بدل دینے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، نہ کسی کو کوئی تکلیف دی جائے گی۔ اہل ایلیا کے ساتھ جبراً کسی کو رہنے کے لیے نہیں ٹھرایا جائے گا۔ایلیا والوں پر یہ فرض ہے کہ وہ دیگر شہروں کی طرح جزیہ دیں گے اور یونانیوں اور چوروں کو نکال دیں گے۔ ان یونانیوں میں سے جو شہر سے نکلے گا اس کی جان اور مال کو امن ہے تا آ کہ وہ اپنی جائے پناہ میں پہنچ جائے اور جو ایلیا ہی میں رہنا اختیار کرے اس کو بھی امن ہے اور اس کو جزیہ دینا ہو گا اور ایلیا والوں میں سے جو شخص اپنی جان اور مال لے کر یونانیوں کے ساتھ چلا جانا چاہے تو ان کو اور ان کے گرجاؤں کو اور صلیبوں کو امن ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جائے پناہ تک پہنچ جائیں اور جو کچھ اس تحریر میں ہے اس پر خدا کا رسول خدا کےخلیفہ کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے بشرط یہ کہ یہ لوگ جزیہ مقررہ ادا کرتے رہیں۔ اس تحریر پر خالد بن الولید اور عمرو العاص اور عبد الرحمنٰ بن عوف اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہم گواہ ہیں اور یہ 15 ہجری میں لکھا گیا‘‘۔

پروفیسر فلپ کے. ہٹی (Philip K. Hitti) حضرت عمرؓ کے اسی دور کے بارے میں لکھتے ہیں:

‘‘They (non-Muslims) were allowed the jurisdiction of their own canon laws as administered by the respective heads of their religious communities. This state of partial autonomy, recognized later by the Sultans of Turkey, has been retained by the Arab successor states’’. [30]

’’غیرمسلموں کو اجازت تھی کہ وہ اپنی کمیونٹی نظام کے تحت اپنے سربراہوں کا حکم مانیں اور ان کے ہدایات کے مطابق اپنے مذہبی معاملات چلائیں۔ عرب جانشین ریاستوں نے جس جزوی خودمختاری کو برقرار رکھا تھا بعد ازاں ترک سلاطین نے بھی اس کو تسلیم کیا تھا‘‘۔

حضورﷺ نے غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کو محفوظ چھوڑدیا ہے

حضور نبی اکرمﷺ نے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو تحفظ ٖفراہم کیا. علامہ ابن قیم ’’احکام اہل الذمۃ‘‘ میں فتح خیبر کے موقع پر حضور نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح خیبر کے بعد وہاں کے غیر مسلموں کو ان کی عبادت گاہوں پر برقرار رکھا اور ان کی عبادت گاہوں کو مسمار نہیں فرمایا۔ بعد ازاں جب دیگر علاقے سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے تو خلفاے راشدین اور صحابہ کرامؓ نے بھی اِتباعِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے ہوئے ان ملکوں میں موجود غیر مسلموں کی کسی عبادت گاہ کو مسمار نہیں کیا‘‘

غیرمسلموں کی معبدوں کا تحفظ مسلمانوں پر لازم ہے

قرآن و حدیث کی نقطہ نظر سے اسلامی ریاست پر لازم ہے کہ وہ تمام مذاہب کے مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں کا خیال رکھے قرآن مجید میں سورۃ الحج میں ارشاد گرامی ہے:

“وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ “[32]

’’اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ (کےشر) کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور کلیسا اور عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب مسمار کردی جاتیں۔ اور اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اُس (کے دین) کی مدد کریں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے‘‘۔[33]

امام ابو بکر الجصاص “احکام القرآن”میں درج بالا آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’وقال الحسن:”يُدْفَعُ عَنْ هَدْمِ مُصَلَّيَاتِ أَهْلِ الذِّمَّةِ بِالْمُؤْمِنِينَ”قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْآيَةِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ هَذِهِ الْمَوَاضِعَ الْمَذْكُورَةَ لَا يَجُوزُ أَنْ تُهْدَمَ عَلَى مَنْ كَانَ لَهُ ذِمَّةٌ أَوْ عَهْدٌ مِنْ الْكُفَّارِ، وَأَمَّا فِي دَارِ الْحَرْبِ فَجَائِزٌ لَهُمْ أَنْ يَهْدِمُوهَا كَمَا يَهْدِمُونَ سَائِرَ دُورِهِمْ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ فِي أَرْضِ الصُّلْحِ إذَا صَارَتْ مِصْرًا لِلْمُسْلِمِينَ: “لَمْ يُهْدَمْ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ بِيعَةٍ أَوْ كَنِيسَةٍ أَوْ بَيْتِ نَارٍ، وَأَمَّا مَا فُتِحَ عَنْوَةً وَأُقِرَّ أَهْلُهَا عَلَيْهَا بِالْجِزْيَةِ فَإِنَّهُ مَا صَارَ مِنْهَا مِصْرًا لِلْمُسْلِمِينَ فَإِنَّهُمْ يُمْنَعُونَ فِيهَا مِنْ الصَّلَاةِ فِي بِيَعِهِمْ وَكَنَائِسِهِمْ وَلَا تُهْدَمُ عَلَيْهِمْ وَيُؤْمَرُونَ بِأَنْ يَجْعَلُوهَا إنْ شَاءُوا بُيُوتًا

مسكونة‘‘۔[34]

امام ابوبکر جصاصؒ حسن بصری کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“اللہ تعالیٰ مومنین کے ذریعے غیرمسلم شہریوں کی عبادت گاہوں کے انہدام کو روکتا ہے۔ (یعنی مسلمانوں کے ذریعے ان کی حفاظت کرتا ہے)۔

امام ابوبکر جصاصؒ مزید فرماتے ہیں کہ کفار کے ساتھ معاہدے کی صورت میں ان کی کلیسائیں، گرجے اور دیگر عبادت خانوں کو مسمار کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ دارالحرب میں (حالت جنگ میں) دیگر مقامات کے انہدام کی طرح ان چیزوں کو گرانا بھی جائز ہے۔ ابوبکر جصاصؒ امام محمدؒ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس زمین کو صلحاً فتح کیا گیا ہو وہاں گرجوں، کلیساؤں اور آتش کدوں کو مسمار نہیں کیا جائے گا۔ لیکن جس مقام کو مسلمانوں نے بزور طاقت فتح کیا ہو وہاں مسلمانوں کو اختیار ہے کہ وہ غیرمسلموں کو اس بات کا پابند بنادیں کہ ان عبادت گاہوں میں (علانیہ) عبادت نہیں کریں گے اور ان جگہوں کو رہائشی مقامات میں تبدیل کریں گے۔”

علامہ ابن القیم الجوزیہؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

“وَهَكَذَا يَدْفَعُ عَنْ مَوَاضِعِ مُتَعَبَّدَاتِهِمْ بِالْمُسْلِمِينَ وَإِنْ كَانَ يُبْغِضُهَا، وَهُوَ سُبْحَانُهُ يَدْفَعُ عَنْ مُتَعَبَّدَاتِهِمُ الَّتِي أُقِرُّوا

عَلَيْهَا شَرْعًا وَقَدَرًا، فَهُوَ يُحِبُّالدَّفْعَ عَنْهَا وَإِنْ كَانَ يُبْغِضُهَا، كَمَا يُحِبُّ الدَّفْعَ عَنْ أَرْبَابِهَا وَإِنْ كَانَ يُبْغِضُهُمْ.

وَهَذَا الْقَوْلُ هُوَ الرَّاجِحُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، وَهُوَ مَذْهَبُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْآيَةِ”۔[35]

“اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ذریعے ان کے عبادت گاہوں کا دفاع کرتا ہےاگر چہ اللہ تعالیٰ کو (اپنے ماسوا کسی کی عبادت) پسند نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے عبادت گاہوں پر برقرار رکھتے ہوئے دوسروں کے شر سے ان کو مامون رکھتا ہے۔ اور ان کےطریقہ عبادت کو ناپسندیدہ ہونے کے باوجود انہیں محفوظ قرار دیا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کے معبودان باطلہ کا دفاع باوجود مخالف اور ناپسندیدہ ہونے کے کرتا ہے۔ یہی قول راجح ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب بھی اس آیت کی ذیل میں یہی ہے”۔

اسلام میں بتوں کی شرعی حیثیت

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ بت کو بحیثیت معبود اسلام میں کبھی برداشت نہیں کیا گیا۔ تاہم اس میں اختلاف ہے کہ آیا مذہبی رواداری کے تحت بتوں کو ثقافتی ورثے کے طور پر باقی رکھا جاسکتا ہے یا نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بتوں کو کہیں نہیں چھوڑا جائے گا۔ جہاں کہیں بت کو پایا گیا اسے توڑا جائے گا۔ پھر ان حضرات کے نزدیک یہ کام کبھی تو ریاست کی ذمہ داری ہوگی اور کبھی ذاتی حیثیت سے کوئی بھی اس کام کو سرانجام دے سکتا ہے۔

بعض اہل علم (جن میں شیخ احمد شرباصی[36]، ڈاکٹر یوسف القرضاوی[37] اور دیگر علمائے عرب شامل ہیں)کہتے ہیں کہ بت کو جہاں بھی پایا جائے اسے منہدم کردیا جائے کیوں کہ:

1بت شرک کے سبب بنتے ہیں لہٰذا انہیں مسمار کیا جائے گا تا کہ شرک کا دفعیہ ہوسکے۔

“وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا”۔[38]

’’اور( اپنے آدمیوں سے کہا ) کہ : اپنے معبودوں کو ہرگز مت چھوڑنا۔نہ ودّ اور سواع کو کسی صورت چھوڑنا، اور نہ یعوق،یغوث اور نسر کو چھوڑنا‘‘۔

اسی آیت کے ذیل میں امام بخاریؒ نے ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ دراصل قوم نوح کے اشراف کے نام ہیں۔ جب یہ لوگ دنیا سے چلے گئے تو شیطان نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ ان اشراف کی مورتیاں بناکر اپنے مجلسوں میں رکھ دو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا لیکن کسی نے ان کو سجدہ نہیں کیا۔ لیکن جب بنانے والی نسل ختم ہوئی اور نئی نسل پیدا ہوئی تو کم علمی و کم فہمی کی بناپر انہوں نے ان مورتیوں کی عبادت کرنی شروع کی۔

“وَقَالَ عَطَاءٌ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ، فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى قَوْمِهِمْ أَنِ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمُ الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا وَسَمُّوهَا بِأَسْمَائِهِمْ، فَفَعَلُوا فَلَمْ تُعْبَدْ، حَتَّى إِذَا هَلَكَ أُولَئِكَ وَتَنَسَّخَ العِلْمُ عُبِدَتْ”۔[39]

اسی سے معلوم ہوتاہے کہ اگر بتوں کو ان کی حالت پر رکھا جائے تو بعید نہیں کہ آنے والی نسل ان کی تعظیم میں لگ جائے اور رفتہ رفتہ ان کی عبادت کی جانے لگے۔

2حضور ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر مسجد حرام کے اندر تمام بتوں کو توڑ دیا اور صحابہ کرام کو انحائے عرب میں مختلف بتوں کو توڑنے کے واسطے بھیج دیا۔

3 یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جن بتوں کی عبادت نہیں کی جاتی انہیں چھوڑ دیا جائے کیوں کہ حضورﷺ کے دور میں صحابہ کرام بت پرستی سے مکمل طور پر اجتناب کرتے تھے۔ اس وقت کسی کو یہ شائبہ بھی نہیں تھا کہ عرب میں بتوں کی عبادت کی جائے گی اور اس کے باوجود حضورﷺ نے بتوں کو توڑ دیا۔ صحابہ میں سے کسی نے بھی اس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا کہ جب عبادت کا سوال ہی نہیں تو انسانی ورثے کے تحت ان بتوں کو چھوڑ اکیوں نہیں جاتا؟

4 صحابہ کرام حضورﷺ کی وصیت کو حرزجاں بناکر اس پر عمل کیا کرتے تھے۔ حضورﷺ کی وصایا میں سے ایک وصیت یہ بھی تھی کہ جہاں بھی کسی بت کو پایا جائے اسے منہدم کیا جائے اور اگر کہیں کوئی تصویر نظر آئے تو اسے مٹادی جائے اور اونچی قبر کو زمین کے ساتھ برابر کردیا جائے۔ چنانچہ ابو الہیاج الاسدی کی روایت میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ:

“عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ “أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ”۔[40]

’’ابوالہیاج الاسدی کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:” کیا میں تمہیں اس عمل کے انجام دہی کے واسطے

نہ بھیجوں جس کے لیے حضورﷺ نے مجھے بھیجا تھا؟ اور وہ یہ کہ تم کہیں کوئی صورت(بت) کو ایسے مت چھوڑنا بلکہ اسے مٹادینا اور اونچی قبر کو برابر کردینا‘‘۔

5 حدیث میں ہے کہ شیطان جزیرہ عرب میں اس بات سے مایوس ہوگیا ہے کہ اب اس کی عبادت کی جائے گی۔ اس کے باوجود حضورﷺ اور صحابہ نے وہاں بت کے وجود کو برداشت نہیں کیا۔ جب عرب کا یہ حال ہے تو باقی دنیا میں تو شیطان اپنی پیروکاری سے مایوس بھی نہیں ہوا چنانچہ باقی دنیا میں بطریقہ اولیٰ بتوں کو ختم کرنا چاہئے تا کہ غیراللہ کی عبادت کا شائبہ ہی ختم کیا جاسکے۔

اس کے برعکس بعض حضرات (دورحاضرمیں جاوید احمد غامدی اور ڈاکٹر طاہر القادری وغیرہ حضرات)کا کہنا ہے کہ اس دور میں بین الاقوامی رواداری کی ضرورت کے تحت ایک دوسرے کے مقدس مقامات اور عبادت گاہوں کی ہر حال میں حفاظت کی جائے گی۔ ان کے مطابق بت کو بھی نہیں توڑا جائے گا۔ قائلین عدمِ انہدامِ اصنام کا کہنا ہے کہ بتوں کو مسمار کرنے کا حکم عرب کے ساتھ خاص ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب منبع توحید ہے۔ وہاں کسی ایسی قسم کی کوئی سرگرمی اور نشان باقی نہیں رہنے دیا گیا جس سے جاہلی زمانے کی شرکیات آشکارا ہوں۔عرب کے باہر ہر آلہ شرک مسمار کرنا اور ختم کرنا ضروری نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نےجب شام کی طرف فوجیں روانہ کیں تو ان کو دس ہدایات دیں تھیں۔ ان ہدایات میں ایک ہدایت یہ بھی تھی کہ غیرمسلموں کی کی کسی عبادت گاہ کو مسمار نہ کیا جائےاور راہبوں وعابدوں کو نہ ستایا جائے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خلفائے راشدین کے دور میں عرب سے باہر لاکھوں مربع میل علاقوں کو فتح کیا گیا لیکن کہیں بھی کسی مندر یا بت کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

مصر کا وسیع علاقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں فتح ہوا۔ وہاں ابوالہول اور ابوسنبل کے ساتھ کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ اُن کے ساتھ یہ معاہدہ کیا گیا تھا کہ ان کی عبادت گاہوں کو محفوظ رکھا جائے گا۔ جیسا کہ ماقبل میں طبری کے حوالے سے اس معاہدے کی عبارت گزر گئی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ معاہدہ نہ کرتے تو کیا ان علاقوں میں یہ سارے معابد اور خانقاہیں اور بت وغیرہ مسمار کردیے جاتے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس معاہدے سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ حکم جاری کیا تھا کہ غیرمسلموں کی کسی بھی عبادت گاہ کو نہ چھیڑا جائے۔دوسری بات یہ ہے کہ مسلمان غیرمسلموں کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ سرےسے کرہی نہیں سکتے جو توحید کے خلاف ہو اور جو قرآن یا حضورﷺ کے ارشادات کے خلاف ورزی پر مبنی ہوں۔چنانچہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل عین اتباع شریعت اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم کی روشنی میں تھا۔

اس کے علاوہ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ سلطان محمود غزنوی نے سومنات کا مندر توڑ کر خود کو بت شکن کہلوایا تھا اس کے

اتباع میں ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بتوں کو توڑ ڈالے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سلطان محمود غزنویؒ کے کسی عمل کو اسلام کا حکم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نیز سومنات کو توڑنا وقت کا تقاضا اور ایک سیاسی فیصلہ تھا ورنہ خود سلطان کی راج دھانی غزنی میں ہندوؤں کے محلے بھی تھے اور وہاں بت بھی موجود تھے۔ نیز بامیان کے بت بھی سلطان کے دسترس میں تھے لیکن اس نے یہ بت نہیں توڑے۔[41]

اسلام اور پرانے کھنڈرات

اسلام میں پرانے اقوام کے آثار اور ان کی نشانیوں کو باقی رکھنے اور ان سے نصیحت حاصل کرنے کا حکم آیا ہے۔ پرانی ملتوں کے آثار اب بھی کچھ کچھ پائے جاتے ہیں جن میں بابل کے کھنڈرات، ٹیٹس کے محلات کے آثار، روم میں پائے جانے والے آثار، فارس کے بادشاہوں کے محلات، ایران کے آتش کدے، کسریٰ کا محل اور گندھارا تہذیب سمیت موئن جودڑو وغیرہ میں پائے جانے والے کھنڈرات شامل ہیں۔ ان آثار کے ذکر کا اصل مقصد تذکیر ہے جسے حضرت شاہ ولی اللہؒ نے التذکیر بایام اللہ کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ فوز الکبیر میں اس موضوع پہ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نےبحث کی ہے کہ اقوامِ ماضیہ کے آثار سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضورﷺ نے شہروں کے گرد پائے جانے والے پرانے قلعہ جات کو مسمار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ فرمایا کہ اس سے شہر خوبصورت دِکھتا ہے اگر اس کو مسمار کیا جائے تو شہر بدنما لگے گا۔

چنانچہ ارشاد ہے:

“لقد نهى النبى صلى الله عليه وآله وسلم عن هدم آطام المدينة، والآطام: جمع أُطُم، وهو الحصن المبنى بالحجارة ويشمل كل بناءٍ مرتفع، وقيل: كل بيت مربع مسطح: لأنها زينة المدينة، فكل ما هو زينة لها لا يجوز هدمُه وإزالته۔ وعن ابن عُمَرَ رضى الله عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن آطام المدينة أن تُهدم۔ وفى رواية قال صلى الله عليه وسلم: “لا تهدموا الآطام، فإنها زينة المدينة‘‘۔[42]

امام طحاوی اس حدیث کی سند میں فرماتے ہیں کہ اس کو بخاری نے کئی طرق سے روایت کیا ہے۔

“رواه البخارى ـ من طرق ـ والبزار. ورجاله الطحاوى رجال الصحيح. ومثله عند البزار إلا شيخه[43]وقد كان بالمدينة آطام كثيرة بناها الأنصار قبل الهجرة‘‘۔[44]

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پرانے کھنڈرات یا قلعے اگر علاقے کے حسن کے باعث ہوں تو بلاوجہ ان کو گرایا نہیں جائے گا۔ ان کی مرمت کا اہتمام کیا جائے گا اور انہیں کسی مفید مقصد کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔

خلاصہ یہ کہ دیگر مذاہب کے احترام کے ساتھ ساتھ اسلام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اپنے ماحول کو خوبصورت اور صاف ستھرا رکھا جائے۔ بلا ضرورت پرانے ہونے والی عمارتوں اور تاریخی مقامات کو مسمار نہ کیا جائے۔ جن چیزوں سے عبرت حاصل کی جاسکتی ہو ان کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے تاکہ وہ ان سے سبق حاصل کرتے ہوئے آخرت کی تیاری کے لیے کمربستہ ہوں۔

نتائج البحث

سوات میں آثار قدیمہ کثیر تعداد میں پایے جاتے ہیں۔ ان میں ہندومت، بدھ مت اور اسلام کے آثار نمایاں ہیں۔ یوسفزئی قوم کے چند سو سال پرانے روایات اور آثار بھی موجود ہیں جن میں مساجد اور حجرے شامل ہیں۔ سوات میں سادات بھی ایک بڑی تعداد میں آباد ہیں جن کے بزرگوں کے مزارات، ان بزرگوں کے بقایا جات اور مخطوطات وغیرہ بھی محفوظ ہیں۔ سوات اپنی قدرتی خوبصورتی، مذہبی حیثیت اور تزویراتی وجوہات کی بنا پر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس وقت سوات میں بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد یہاں کے مذہبی آثار اور ثقافت کی زیارت کرنے آتی ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ اور آثار قدیمہ پر تحقیق کرنے کے واسطے سکالرز کو بھی یہاں آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ حال ہی میں سوات کے ایک معروف لکھاری اور سوات کے آثار قدیمہ پر قابل قدر کام کرنے والے صحافی فضل خالق نے اپنی کتاب “ادھیانہ: سوات کی جنت گم گشتہ” میں سوات کی اہمیت کے گمنام گوشوں کو نمایاں کیا ہے۔ فضل خالق کے مطابق ایک جاپانی سکالر سوات میں اس واسطے میں مقیم تھا کہ وہ سوات میں ماضی میں ایک منک (بدھ مت کا عالم) کے گزرنے کے راستے پر تحقیق کررہا تھا۔ جاپانی سکالر کے مطابق اس منک کے یہاں قیام کرنے، یہاں تبلیغی مہم پر آنے اور اس کے آثار پر مزید تحقیق کی جاسکتی ہے۔

سوات کے آثار قدیمہ کو دنیا میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ خیبر پختونخوا کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ریٹائرڈ ڈائریکٹر شاہ نذر کے مطابق اس خطے میں سوات ثقافتی ورثہ اور آرکیالوجی سب سے بہترین ہے کیوں کہ اس میں بدھی نظریات کو فن اور فن تعمیر کے لحاظ سے بہترین کاریگری میں سموکر ہمیشہ کے لیے یادگار بنایا گیا ہے۔

سوات میں بنظرغائر دیکھا جائے تو یہاں پرانے آثار کی بہتات ہے لیکن ان میں بت اور اشکال کے مقابلے میں سٹوپے اور دیگر مذہبی ورہائشی مقامات زیادہ ملتے ہیں۔ ان آثار کے بارے میں اسلامی احکام سے اس پیپر میں بحث کی گئی ہے۔ ان میں قلعہ نما عمارتیں اور عہد رفتہ کی یادگاریں قابل دید ہیں۔ ان یادگاروں کو مسمار کرنا اور اسی کے ذریعے ان کے ماننے والوں کی دل آزاری کرنا اسلام کا تقاضا ہرگز نہیں ہے۔ اس لیے اہل علم کو چاہئے کہ عوام میں اس حوالے سے آگاہی پھیلائیں اور انہیں دیگر مذاہب کے جذبات کا خیال رکھنے کی نصیحت فرمائیں۔

حوالہ جات

  1.  ڈاکٹر سلطان روم، تاریخ سوات ، شعیب سنز مینگورہ سوات 2013ء، ص25-26۔
  2.  فضل ربی راہی، سوات سیاحوں کی جنت، شعیب سنز مینگورہ سوات 2000ء، ص15۔
  3.  سلیمان شاہد، گمنام ریاست، دانش پبلشنگ ایسوسی ایشن پشاور، جنوری 2005ء
  4.  Late Historic Cultural Landscape in Swat. New Data for a Tentative Historical Reـassessment by Luca Maria Olivieri. P: 357
  5.  اردودائرہ معارف اسلامیہ، دانش گاہ پنجاب لاہور 1975ء۔ج11،ص 418۔
  6.  فضل ربی راہی،ریاست سوات تاریخ کا ایک ورق، ص 11
  7.  اردودائرہ معارف اسلامیہ،ج11،ص434
  8.  ۔ بعض مؤرخین ان کو پیر خوشاب کے نام سے یاد کرتے ہیں( عبدالرشید میاجوخیل، تذکرہ علماء کبار ومشائخ عظام، صوبہ سرحد پاکستان، میاں ظاہر شاہ قادری، مکتبہ غوثیہ مدین سوات)
  9.  ڈاکٹر سلطان روم، تاریخ سوات ، ص35
  10.  ایضاً:ص36
  11.  الیگزینڈر برزن آرکائیوزhttp://studybuddhism.com/web/ur/archives/study/history_buddhism/buddhism_central_asia/history_afghanistan_buddhism.html27-07-2016
  12.  اردو دائرہ معارف اسلامیہ،ج 11، ص 419
  13.  ڈاکٹر انعام الرحیم، ایلین ویارو (ترجمہ: فضل معبود) سوات سماجی جغرافیہ، قبائلیت اور جدیدیت کے درمیان، ناشر: حجرہ سیدو شریف سوات، صفحہ: 109
  14.  آپ عبدالغفور المعروف سیدو باباؒ کے پوتے تھے۔ موضع سیدو شریف کے رہنے والے تھے۔ (ریاست سوات تاریخ کا ایک ورق، فضل ربی راہی)
  15.  فضل ربی راہی، ریاست سوات، تاریخ کا ایک ورق صفحہ 14)
  16.  عبدالقیوم بلالا،داستان سوات، جان کتاب کور کبل سوات2010ء۔ ص169۔
  17.  گول قبر جس میں گوم بدھ کی راکھ دفن کی جاتی تھی۔ بدھ ازم میں اس کو بدھا کی راکھ کی مدفن کی حیثیت سے احترام دیا جاتا تھا۔ بعد ازاں دیگر بدھی بزرگوں کی راکھ کے لیے اس طرح کی گول قبریں بنائی جانے لگیں۔ جن کو سٹوپا یا اسٹوپا کہا جاتا ہے۔ https://ur.wikipedia.org/wiki/30-12-2019
  18.  فضل خالق، ادھیانہ: سوات کی جنت گم گشتہ، شعیب سنز مینگورہ سوات2018ء، ص 73۔
  19.  Muhammad Saeedullah Yousafzai, Attraction of Swat p:46, Manzil Publications Islamabad, 2015
  20.  فضل ربی راہی، سوات سیاحوں کی جنت، ص72۔
  21.  Ancient Uddiyana was Land of Buddha and Mahavira (Rajgriha Before Patliputra by Bipin Shah)
  22.  Muhammad Saeedullah Yousafzai, Attraction of Swat p:47, Manzil Publications Islamabad, 2015.
  23.  فضل ربی راہی، سوات سیاحوں کی جنت،ص76۔
  24.  جنگل میں زندگی گزارنا۔ چلہ کاٹنا (فیروزاللغات، صفحہ 223 ب۔ن،ناشر فیروز سنز لاہور)
  25.  http://www.dawnnews.tv/news/1028621 امجدعلی سحابؔ
  26.  امجد علی سحاب https://www.dawnnews.tv/news/1032630
  27.  الأنعام: 108
  28.  محمد تقی عثمانی ،آسان ترجمہ قرآن، مکتبہ معارف القرآن کراچی ،ج1،ص 416۔
  29.  امام جعفر ابن جریرطبری،تاریخ الامم والملوک، دار التراث،بيروت1387ھ، ج2، ص449۔
  30.  Hitti, History of the Arabs, p. 170.
  31.  محمد بن أبي بكر شمس الدين ابن قیم الجوزیہ،احکام اہل الذمہ، رمادى للنشر، الدمام 1997ء۔ ج3، ص1199۔
  32.  سورۃ الحج: 40
  33.  آسان ترجمہ قرآن ،ج2، ص1026۔
  34.  أحمد بن علي أبو بكر الرازی الجصاص،أحكام القرآن للجصاص مکتبہ العلمیہ،ج3، ص320۔
  35.  ابن قیم الجوزی،احکام اھل الذمہ،ج3، ص1169۔
  36.  مصر کے عالم و ادیب۔ https://ur.wikipedia.org/wiki/30-12-2019
  37.  اخوانی فکر کے حامل مصری عالم دین۔ آپ 9ستمبر 1926 میں پیدا ہوئے۔ جامعۃ الازہر سے استفادہ کیا۔ آپ حسن البنا کے خاص تلامذہ میں سے تھے۔ https://ur.wikipedia.org/wiki/30-12-2019
  38.  سورۃ نوح: 23
  39.  محمد بن اسماعیل البخاری،صحیح البخاری، مکتبہ العلمیہ بیروت ۔ ج6، ص160۔
  40.  أبو الحسن القشيری، مسلم بن الحجاج ،دار إحياء التراث العربی،بيروت۔ ج2، ص666۔
  41.  ڈاکٹر محمد فاروق خان، امت مسلمہ کامیابی کا راستہ(حصہ دوم) ص 76
  42.  أبو جعفر أحمد بن محمد بن سلامہ الطحاوی،شرح معانى الآثار للطحاوی،عالم الکتب بیروت 1414ھ ، 1994م۔ ج4، ص194۔
  43.  ایضاً۔
  44.  علی بن عبد الله بن أحمد الحسنی الشافعی،وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى، دار الكتب العلمية،بيروت1419ھ۔ ج1، ص90۔