ڈاکٹر سنگین سیال
وہ ایک عام سا لڑکا ہے۔ اس کے اپنے کوئی خواب تو ہیں نہیں، دوسروں کے پورے کرنے کی کوشش میں مگن رہتا ہے۔ اس کے اپنے کوئی غم تو ہیں نہیں، دوسرے کے غم رو رو کے ہلکان ہوتا ہے۔دل سے بہت نرم ہے۔ تیز بارش میں اپنی چھتری ایک بوڑھی عورت کو دے کر خود ایسے ہی چل پڑتا ہے۔ بہادر اتنا ہے کہ دوسروں کے لیے چیف آف آرمی سٹاف کے سامنے بھی ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے اور ان کے حق کی بات بہ آوازِ بلند بھی پیش کرتا ہے۔ اور کمزور اتنا کہ خود پہ آتی ہے، تو ایک عام پولیس والے کے سامنے پاؤں لڑکھڑا جاتے ہیں۔
آغاز ”بس کافرو تہ م بوزیئ“ سے لیا، جسے پورے ہال نے کیا، جدھر بھی پختون ہیں، سب کو یاد کروالیا۔ جہاں بھی شعر وشاعری کا ذکر ہوا، امیدؔ کا ذکربھی ساتھ ساتھ ہوا۔ اس کے برعکس کچھ نابالغوں نے اعتراض بھی کیا۔ لاحولا ولاقوۃ، مسلمان ہو کے کافروں کے پاس جانا چاہتا ہے۔ وہ بھلا کیا جانیں کہ امیدؔ کو کسی کے مذہب سے کیا لینا دینا۔بقول فرنود، ”اسے تو بس زندگی چاہیے، چٹخی ہوئی بانسری واپس چاہیے۔“
اسی نام (بس کافرو تہ می بوزیئ) سے کتاب بھی چھپی،جسے دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔
کتاب، امیدؔ کے خیالات کا احاطہ کرپائی یا نہیں؟ نہیں معلوم……! ہاں، مگر لوگوں کو امیدؔ کی لت سی لگ گئی۔ انہیں ایسے خیالات سننا تھے۔ وہ امیدؔ کے منھ سے اچھے کو اچھا اور برے کو برا سننا چاہتے تھے۔ چاہے اس کے لیے امیدؔ کو سولی پہ کیوں نہ چڑھنا پڑے۔ یہ سننے والے ڈھیر سارے حضرات میں ایک کا نام اسماعیل ہے، جو مردان کا باسی ہے اور کویت میں گزر بسر کر رہا ہے۔ بخدا، اس نے امیدؔ کو صرف سوشل میڈیا پہ دیکھا اور سنا ہے۔ اسی نے امیدؔ کو اپنا دوسرا مجموعہ چھاپنے پر مجبور کیا۔
6 جولائی کو امید کی دوسری کتاب آئی۔ رباب کی دھن کے ساتھ آواز ملا کر بلند آہنگ گنگنائے ”پہ ژوند میئن یمہ سندرہ غوام!“ جس میں ایک بار پھر امیدؔ قوم کا مقدمہ پورے جوش کے ساتھ لڑتے دکھائی دیے۔ جس کسی نے بھی اس قوم کو ستایا، اس کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔
پہلے صفحے سے لے کر آخری تک آپ کو خود سے نہ جدا کرنے کی طاقت رکھنے والی یہ کتاب بھی بہت سے عالم فاضل لوگوں کی لائبرریری کی زینت بنی۔
دس اگست کو پولیس امیدؔ کو اس کو الزام میں کبل تھانے لے گئی جس کی خبر نہ امیدؔ کو تھی اور نہ پولیس ہی کو پتا تھا۔گیارہ بجے رحمان علی، امیدؔ کی کال پر پولیس سٹیشن پہنچے۔انہوں نے بات کرنا چاہی، تو کسی نے نہ سنی اور الٹا بے عزتی پہ اتر آئے۔موبائل چھین لیا گیا۔گھر کے سارے افراد کے نام پوچھے گئے۔ عجیب عجیب قسم کے سوالات پوچھے گئے۔ دفعہ 107 لگایا گیا۔5 لوگ ضمانت کے لیے مانگے گئے۔ مسلسل اس کی عزتِ نفس پر وار کیے گئے۔ ٹھیک اُسی طرح،جس طرح وہ کہتے ہیں کہ
غیر جمہوری رویے، غیر پارلیمانی رویے
دلتہ کی قات دی لا ناصحہ انسانی رویے
اسی غیر انسانی رویوں کو دیکھ کر ہمارے یہاں لوگ پولیس کے نام سے ڈرتے ہیں۔ کتنی وحشت اور ڈر ہے ہمارے دلوں میں ان لوگوں سے جو ہماری سہولت اور حفاظت کے لیے تھانوں میں بٹھائے گئے ہیں۔ ڈر ہوگا بھی کیوں نہیں، جب محافظ ہماری بے عزتی پہ اتر آئیں۔ امیدؔ بھی اسی معاشرے کا فرد ہے، اسے بھی ڈر لگا، وہ بھی خوف زدہ ہوا اور اس کے احساسات بھی مجروح ہوئے۔
قارئین، امیدؔ نے لوگوں کا دھیان بندوق سے ہٹاکر قلم کی طرف موڑا۔ بس اپنی فیس بک وال سے ایک پوسٹ شیئر کی، جسے دیکھ کر عبدالصبور اپنے ساتھیوں سمیت آگئے۔ اس کے علاوہ اس واقعے پر شاعروں، صحافیوں، سوشل ایکٹیوسٹ اور قوم پرستوں نے خوب احتجاج کیا۔ لمحہ بھر میں خادم حسین، ضیاء الدین یوسف زئ کی کال اور ایمل ولی خان نے ”ملگری وکیلان“ بھیجنے کی یقین دہانی کرائی۔ سب نے جیسے امیدؔ کے اس شعر کی ترجمانی کی ہو
قاتلان حواس باختہ دی پہ مقتل کی
مونگ سرہ د حوصلو احتجاج اوکو
یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد امیدؔ سے معافی مانگی گئی اور وہ باعزت طریقے سے گھر پہنچا دیے گئے۔ اس پورے واقعہ کو سوات کے سینئر صحافی فیاض ظفر، عصمت علی اخوند اور امجد علی سحاب نے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر چلا کر امیدؔ کی ہمت بڑھائی اور لوگوں پر اس کی معصومیت عیاں کی۔
بظاہر بات یہاں ختم ہوئی۔ سب کو ایسا لگا لیکن دراصل بات یہاں سے شروع ہوئی۔ امیدؔ کے ساتھ بہت قریبی دوستوں نے رابطہ کرنا چھوڑ دیا۔ وہ شام کے بعد نکلنا چھوڑ بیٹھے۔ دو دفعہ رات کے وقت اس کے گھر کے ساتھ مشکوک آدمی بھی دیکھے گئے۔ ایک بار ہوائی فائرنگ بھی ہوئی۔ قصہ مختصر، اس واقعے کے بعد اس کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ امیدؔ کی زبانی اس کی حالت آج کل کچھ یوں ہے کہ
لکہ د روح می حالت پٹ د دنیا
لکہ بوٹئی خکارہ سنبال گرزمہ
پہ ہر اڑخ د غورزیدو ویرہ دہ
جوند داسی دے چی پہ دیوال گرزمہ
یا ایک اور جگہ کہتے ہیں
زما امیدہؔ جوند دی سنگ تیریگی؟
زما لالیہ مکمل ماتم دے
ویسے تو یہاں کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ایک ادارے کے علاوہ ہر کوئی برسرِ احتجاج ہے،لیکن اس شہر ناپرساں میں فریاد کریں بھی، تو کس سے کریں؟ ایسے میں امیدؔ کا ماتم بس یہی ہے جو ہر کسی کی ترجمانی کرتا ہے کہ
توری جامے چی مسلسل اغوندم
توری جامے می مسلسل ماتم دے
ایسے حالات میں بھی ہارنہ ماننے والا اور زندگی خوب طرح سے جینے والا امیدؔ صبر و استقامت کا پیکر ہے۔ وہ محبت کے چالیس اصولوں میں سے اس اصول پر پورا پورا اترتاہے کہ
“Patience means to look at the thorn and see the rose, to look at the night and see the dawn, the lovers of God never run out of patience (the Fourty Rules of Love)۔
ایسے حالات میں بھی اس کی نظر میں زندگی ہی سب کچھ ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں وہ پیار کے گیت گنگناتا ہے:
حسن تہ بے پتہ شوم راخکتہ شوم
سومرہ باعزتہ شوم راخکتہ شوم
خیال دِ دے مدہوش شوم، مدہوش حسن تہ
خیال دِ دے راخکتہ شوم راخکتہ شوم
قارئین، جاتے جاتے بس یہی دعا ہے کہ خدا امیدؔ کو ہمیشہ سلامت رکھے کہ جسے دیکھ کر کئیوں کی امید قائم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔