امجد علی سحاب
”اِکیگائے“ (اُردو ترجمہ) پڑھنے سے پہلے مَیں اکثر خود کو دلاسا دیا کرتا کہ 50 سال خوب محنت کروں گا۔ اتنا کچھ جمع کروں گا کہ باقی ماندہ زندگی کسی پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹے سے آشیانے میں بسر ہو۔ جہاں بھلے ہی سامانِ آرائش نہ ہو، مگر ایک اچھی خاصی لائبریری ہو۔ روکھی سوکھی جو بھی مل جائے کھالیا کروں اور موٹا جوٹا جیسا بھی مل جائے، پہن لیا کروں، بس……!
فراغتے و کتابے و گوشہئ چمنے
مگر
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!
کتاب ”اِکیگائے“ ہاتھ کیا لگی گویا نئی زندگی مل گئی۔
کتاب کے پہلے صفحہ پر ایک جاپانی کہاوت رقم ہے: ”صرف متحرک (Active) رہنے سے ہی آپ 100 سال تک زندہ اور خوش رہ سکتے ہیں۔“
کتاب پر روشنی ڈالنے سے پہلے بہتر یہی ہے کہ لفظ ”اِکیگائے“ کو سمجھا جائے۔ کتاب کے دیباچہ (زیرِ عنوان ”تعارف“) میں ہیکٹر گارشیا اور فرانسس میرالس (Hector Gracia & Francese Miralles) متفقہ طور پر اس حوالہ سے کچھ یوں رقم کرتے ہیں: ”اِکیگائے (Ikigai) ایک جاپانی تصور ہے جو ”ہمیشہ مصروف رہنے کی خوشی“ کے معنی میں ترجمہ کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ بھی لوگو تھراپی (Logotherophy) ہی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی آگے کی کوئی چیز۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جاپانیوں کی غیر معمولی لمبی عمر کی وضاحت کرنے کا یہ ایک مجرب عمل ہے۔ خاص طور پر اوکیناوا (Okinawa) جزیرے پر رہنے والے باشندوں کے لیے جہاں پر ہر 1 لاکھ میں سے 24.55 فی صد سے زیادہ لوگ 100 سال سے زیادہ عمر تک کے ہوتے ہیں۔“
کتاب کے صفحہ نمبر 9 پر دیباچہ ہی میں رقم ہے: ”اس جزیرے (Okinawa) میں ایک خاص مقام اوگیمی (Ogimi) جو اس کے شمال میں واقع ہے، ایک دیہی قصبہ ہے جس کی آبادی تقریباً 3 ہزار کے قریب ہے۔ یہاں کے لوگ دنیا میں سب سے زیادہ متوقع عمر کے حامل ہیں۔“
جاپان کے مذکورہ جزیرے کے بارے میں کتاب میں یہ تفصیل بھی ملتی ہے کہ دوسری جنگ ِ عظیم کے اختتام پر تقریباً 2لاکھ معصوم افراد کی جانیں ضائع ہوگئی تھیں۔
کتاب کے صفحہ نمبر 10 پر درج ہے: ”دوسرے لوگوں کے ساتھ عداوت یا کنارہ کشی کے بجائے اوکیناوا (Okinawa) کے باشندوں نے ایک مقامی اصول ”ایکچربا کوڈ“ (Ichariba Chode) زندگی گزارنا شروع کی۔ اس اصول کا مطلب یہ تھا کہ ہر ایک کے ساتھ بھائی کی طرح سلوک کرو۔ چاہے آپ اس سے پہلے کبھی ملے ہوں یا نہ ہوں۔“ (واضح رہے کہ ”ایکچر باکوڈ“ (Ichariba Chode) جاپانی اصطلاح ہے)
آگے چل کر جزیرہ اوکیناوا کے خاص مقام اوگیمی کے باشندوں کی خوش گوار زندگی کے راز کا پتا چلتا ہے۔ کتاب کے مطابق: ”اوگیمی کے باشندے ایک دوسرے کو برادری کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اپنی عمر کے ابتدائی ایام ہی سے وہ لوگ ”یوومارو“ (Yuimaaru) یا پھر ٹیم ورک کی مشق کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے عادی ہیں۔“
اوگیمی (Ogimi) میں دوستی کی پرورش کرنا، ہلکا پھلکا کھانا کھانا، اچھی خاصی آرام کرنا اور معتدل ورزش کو معمول بنانا اچھی صحت کے لیے لازم سمجھی جانے والی چیزیں ہیں۔
یہی نہیں بلکہ اوگیمی میں ہر انسان کی سالگرہ شایانِ شان طریقے سے منانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ جس سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں خوشی حاصل کرنے کے بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں۔
قارئینِ کرام! کتاب کے مطالعہ میں ایک زبردست نکتہ یہ ہاتھ لگا کہ اہلِ جاپان کبھی سبک دوش (Retire) نہیں ہوتے۔ کتاب کے صفحہ نمبر 12 پر اس حوالہ سے درج ہے: ”جاپان میں رہتے ہوئے جو ایک حیرت انگیز چیز آپ محسوس کریں گے، وہ یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہاں کے لوگ کیسے فعال اور متحرک رہتے ہیں۔ درحقیقت بات یہ ہے کہ بہت سے جاپانی لوگ ریٹائر ہوتے ہی نہیں بلکہ جس کام کو وہ پسند کرتے ہیں، وہ اُس کو کرتے ہی رہتے ہیں، جب تک کہ ان کی صحت جواب نہ دے جائے۔“
اسی اقتباس میں آگے نیشنل جیو گرافک کے رپورٹر ”ڈین باؤٹنر“ (Dan Buettner) کے حوالہ سے ایک دعوا درج ہے، جو جاپان اور اہلِ جاپان کو اچھی طرح جانتے ہیں: ”جاپانی ثقافت میں زندگی کا ایک مقصد ہونا اس قدر اہم امر ہے کہ وہاں ریٹائرمنٹ کا تصور ہی موجود نہیں۔ کیوں کہ وہ اپنے کام سے پیار کرتے ہیں جس کو مرتے دم تک چھوڑ نہیں سکتے۔“
اِکیگائے کے صفحہ نمبر 17 پر اہلِ جاپان کی لمبی اور صحت مند زندگی کے ایک اور راز سے پردہ اٹھایا گیا ہے جسے “The 80 Percent Secret” کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل میں درج ہے: ”جاپانیوں کا ایک بہت ہی عام اور معروف مقولہ ہے ”ہراہچی بو“ (Hara Hachi Bu) جس کو اُردو میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ پیٹ کے 10 حصوں میں سے 8 حصے تک کھانا کھائیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنے پیٹ کو 80 فی صد تک فُل کریں۔“
آگے جاپان کے ایک مشہور ریسٹورنٹ کا حوالہ دیا جاتا ہے جہاں معمول کے کھانے کو ایک بڑی ٹرے میں پانچ پلیٹوں میں سلیقے سے سجا کر کسٹمر کو پیش کیا جاتا ہے۔ ان میں سے چار پلیٹیں چھوٹی اور ایک قدرے بڑی اور اہم ڈش پر مشتمل ہوتی ہے۔ یوں اگر آپ وہاں کھانا تناول فرمانے گئے ہوں، تو آپ کے سامنے پانچ پلیٹوں والی ٹرے پیش کیے جانے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ بہت کچھ کھایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ جاپان، اہلِ مغرب کے مقابلہ میں سمارٹ نظر آتے ہیں۔
قارئینِ کرام! زمانہئ طالب علمی میں ہمارے ایک استادِ محترم فرما تے تھے: ”بیٹا! جینے کے لیے کھانا، کھانے کے لیے جینے سے بدرجہا بہتر ہے۔“ اس وقت ان کی یہ اہم بات سر کے اوپر سے گزرتی تھی۔ اب جب عمر کا سورج سر پر آچکا، تو احساس ہوتا ہے کہ احتیاط لازم ہے۔ ”اِکیگائے“یعنی جینے کی وجہ کم از کم کھانا نہ ہو بلکہ کچھ ایسا کام ہو کہ جسم و جاں کا رشتہ ٹوٹ بھی جائے، تو وہ کام زندہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔