امجد علی سحاب
جان کیننگ نامی مشہور ادیب کی کتاب کا اُردو ترجمہ ”100 شہرہئ آفاق کتابیں“ کیا ہاتھ آیا، گویا خزانہ ہاتھ آگیا۔ اس میں 100 اُن کتابوں کا ذکر ہے جنہوں نے یورپی معاشرہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کتاب کی ورق گردانی کرنے لگا، تو سب سے پہلے نظر ”بھگوت گیتا“ پر پڑی۔ دوسری نظر ”اَلف لیلہ“ پر پڑی۔ الف لیلہ کے حوالے سے جتنا مطالعہ میرا رہا ہے، وہ ”اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ“ کے مصداق ہی ہے۔ جان کیننگ کی اس اُردو ترجمہ شدہ کتاب کا مواد میرے اب تک کے مطالعہ پر بھاری محسوس ہوا، اس لیے تھوڑی سی وضاحت کے ساتھ نچوڑ پیشِ خدمت ہے کہ ”فرہنگِ آصفیہ“ کے مطابق اس کا صحیح املا ”اَلف لیلہ“ ہے۔ تحریر میں مختلف حوالہ جات میں اس کا املا جس طرح رقم کیا گیا ہے، اسی طرح اِس تحریر میں نقل کیا گیا ہے۔
کتاب ”100 شہرہئ آفاق کتابیں“ دراصل ملک اشفاق صاحب کی ترجمہ شدہ ہے۔ موصوف نے اُردو اور سیاسیات میں ماسٹر کی ڈگری لی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کرچکے ہیں۔ 8 مختلف کتابیں لکھی ہیں جن میں 2 سفرنامے اور 4 ترجمے شامل ہیں۔
اب آتے ہیں اپنے اصل مقصد کی طرف۔ الف لیلہ دو مفرد الفاظ ”اَلف“ یعنی ایک ہزار اور ”لیل“ یعنی رات کا مرکب ہے۔ فرہنگِ آصفیہ کے مطابق ”اَلف لیلہ ایک مشہور ہزار راتی کہانی کا نام ہے۔“
یہ کہانیاں پہلے پہل عربی زبان میں کہی گئیں اور بعد میں لکھی گئیں۔
معلوماتِ عامہ کی مشہور ویب سائٹ ”آزاد دائرۃ المعارف“ (وکی پیڈیا) کے مطابق اس کا پورا نام ”اَلف لیلۃ و لیلۃ“ یعنی ”ایک ہزار ایک رات“ ہے۔
جان کیننگ کی محولہ بالا ترجمہ شدہ کتاب کے مطابق جب الف لیلہ کا 18ویں صدی کے ابتدا میں فرانسیسی زبان میں ترجمہ ہوا، تو یورپ تب کہیں جاکر اس حیرت انگیز ادب سے متعارف ہوا۔ ترجمہ نگار کا نام ”انتھونی گلینڈ“ تھا۔ دراصل انتھونی گلینڈ نے سولہویں صدی کے آخر میں عرب ممالک کا سفر کیا تھا جہاں انہوں نے عربی زبان کے ساتھ دیگر مشرقی زبانیں بھی سیکھی تھیں۔ گلینڈ نے جس عربی کتاب کا ترجمہ کیا تھا، کہا جاتا ہے کہ وہ ہاتھ سے لکھا ہوا ایک مسودہ تھا اور یہ کوئی سو سال قبل مصر میں لکھا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ کہانیاں کافی قدیم ہیں۔اس حوالہ سے وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کب لکھی گئیں۔
دوسری طرف ”آزاد دائرۃ المعارف“ کے مطابق ترجمہ نگار کا نام ”اینٹونی گلانڈ“ ہے۔
جان کیننگ کے مطابق، الف لیلہ کا بہترین ترجمہ ”سر رچرڈ برٹن“ کا ہے۔ مذکورہ مترجم بھی عربی کے ماہر اور کئی مشرقی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ ”سر رچرڈ برٹن“ کے ترجمے کا پہلا ایڈیشن 1885ء میں ”بنیر“ انڈیا میں شائع ہوا تھا۔
جان کیننگ کہتے ہیں کہ الف لیلوی داستانوں کا پہلا سراغ ایک عرب اسکالر المسعودی کے انسائیکلو پیڈیا میں ملتا ہے۔ یہ (انسائیکلو پیڈیا) 950ء میں مرتب کیا گیا تھا۔
جان کیننگ کے بقول، مسعودی کا کہنا ہے کہ عربوں میں یہ کہانیاں ایران، ہندوستان، یونان اور دوسرے ممالک سے آئیں۔ ان کتابوں میں سے ایک کا نام ”ہزار افسانے“ تھا۔ یہ کتاب فارسی میں تھی۔ اس کے بعد یہ عربی میں ترجمہ ہوئی۔ عربوں میں اس کتاب کا نام ”ایک ہزار ایک راتیں“ تھا۔ یہ نام کتاب کے اندر موجود کہانیوں کی مناسبت سے رکھا گیا۔
”آزاد دائرۃ المعارف“ کے مطابق اَلف لیلوی داستانیں انگریزی زبان سے اُردو میں ترجمہ ہوئیں۔
”آزاد دائرۃ المعارف“ میں وجہئ تسمیہ کے حوالہ سے درج ہے: ”محمد بن اسحاق نے ”الفہرست“ میں کہانیوں کی ایک کتاب ہزار افسانہ کا ذکر کیا ہے جو بغداد میں لکھی گئی تھی اور اس کی ایک کہانی بھی درج کی ہے جو اَلف لیلیٰ کی پہلی کہانی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کتاب کا نام ”ہزار افسانہ“ تھا۔ نیز اس میں ”ایک ہزار ایک داستانیں“ نہ تھیں، بعد میں مختلف مقامات پر اس میں اضافے ہوئے اور کہانیوں کی تعداد ایک ہزار ایک کرکے اس کا نام ”الف لیلۃ و لیلۃ“ رکھا گیا۔“
بی بی سی اردو سروس پر ”انور سن رائے“ اکسفورڈ کی شائع شدہ کتاب ”الف لیلہ“ (از رتن ناتھ سرشار) پر اپنے تبصرہ میں رقم کرتے ہیں: ”سرشار کی الف لیلہ کا ایک تلخیص شدہ ایڈیشن انتظار حسین اور سید وقار عظیم نے ترتیب دیا تھا جو لاہور سے 1962ء میں شائع ہوا تھا۔ اس میں مولوی اسماعیل کی تیار کردہ دوسری جلد کی کہانیاں شامل نہیں تھیں۔ اب یہ ایڈیشن بھی دستیاب نہیں ہے۔“
جان کیننگ کے مطابق اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک ایرانی بادشاہ تھا جو ہر روز ایک خاتون کو اپنے محل میں لایا کرتا تھا۔ خاتون کے ساتھ رات گزارنے کے بعد صبح اس کو قتل کر ڈالتا۔ خدا کی کرنی کہ ایک نوجوان خوب صورت شہزادی اس کی زندگی میں آئی۔ اس نے اپنی عقل، فہم و فراست اور چالاکی سے بادشاہ کو پہلی رات ایک ایسی کہانی سنانا شروع کی کہ جس میں اس قدر تجسس تھا کہ بادشاہ نے اس کہانی کا بقیہ حصہ سننے کے لیے اس کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔ دوسری رات کہانی وہاں سے شروع ہوئی، جہاں پہلی رات اسے ایک نیا موڑ دیا گیا تھا۔ اس طرح ٹھیک ایک ہزار ایک راتیں گزر گئیں۔ یوں بادشاہ نے خواتین کو قتل کرنے کی اپنی بُری عادت چھوڑ دی اور شہزادی کو اپنی ملکہ بنا لیا۔
”آزاد دائرۃ المعارف“ کی تحریر میں ایک بات کا اضافہ ملتا ہے اور وہ یہ کہ ذکر شدہ مدت (یعنی ایک ہزار ایک راتوں) میں بادشاہ سے شہزادی کے دو بچے بھی ہوئے۔
جان کیننگ کے مطابق اَلف لیلہ عباسی دور میں مرتب ہوئی۔ اس میں کئی معروف کہانیاں ایسی بھی شامل ہیں جو قدیم مسودے میں نہ تھیں۔ واضح رہے کہ کہ ہارون الرشید کا زمانہ 786ء ہے۔ ہارون الرشید 809ء کو انتقال کرگئے تھے۔ اَلف لیلا کو بغداد میں اُن دنوں میں مرتب کیا گیا تھا۔
اس حوالہ سے ”آزاد دائرۃ المعارف“ پر رقم تحریر کہتی ہے: ”اَلف لیلیٰ کی اکثر کہانیاں بابل، فونیشیا، مصر اور یونان کی قدیم لوک داستانوں کو اپنا کر لکھی گئی ہیں۔ انہیں حضرت سلیمان، ایرانی سلاطین اور مسلمان خلفا پر منطبق کیا گیا ہے۔ ان کا ماحول آٹھویں صدی عیسوی کا ہے۔ ایسی کہانیاں جن میں اُن چیزوں کا ذکر ملتا ہے جو آٹھویں صدی میں دریافت و ایجاد نہیں ہوئی تھیں، بہت بعد کے اضافے ہیں۔“
“rekhta.org” کے مطابق، الف لیلہ کے کچھ مشہور قصے الہ دین، علی بابا، مچھیرا اور جن، سندباد جہازی، تین سیب، سمندری بوڑھا، شہر زاد، حاتم طائی وغیرہ ہیں۔
جان کیننگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اِن کہانیوں کو پڑھنے کے بعد انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتاہے کہ ا ُس وقت کا مشرق کتنا ترقی یافتہ اور مہذب تھا۔ اس دور کا ادب کتنا اعلا معیار کا تھا۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اُس وقت لوگ اپنا فارغ وقت کہانیاں سن کر گزارتے تھے۔ قافلوں کے پڑاؤ میں آگ جلا کر قافلے کے لوگ آگ تاپنے کے ساتھ کہانیاں خود سن کر اور دوسروں کو سنا کر تھکن اتارتے تھے۔ اس کے علاوہ قہوہ خانوں میں لوگ قہوہ پیتے اور وہاں موجود قصہ گو قصے کہانیاں سناتے۔ یہ وقت گزاری کا سامان بھی ہوتا، لوگوں کا دل بھی بہلتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سیکھنے سکھانے کا عمل بھی انجام پاتا۔
جان کیننگ رقم کرتے ہیں کہ سر رچرڈ برٹن کے بقول الف لیلوی داستانیں اعلا پائے کا اور سچا ادب ہیں۔ اس میں تخیل کی بلندی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ موضوعات شیریں، گہرے اور جان دار ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی مشرقی ادب ہے۔ اس کی عجیب و غریب مہمات، بحری سفر، اخلاقی اور تاریخی واقعات، فلسفہ، مذہب، رومانس، انوکھا اور اور دلچسپ ہے۔ اس کو مشرق اور مغرب میں ہر دور کی نسلیں پڑھتی چلی آ رہی ہیں اور پڑھتی رہیں گی۔