فضل معبود شاکرؔ اور اس کی شاعری
تصدیق اقبال بابو
یہ کوئی اٹھارہ سال پہلے کی بات ہے۔ صابر شاہ ایڈوکیٹ، آفتاب حسین بٹ ایڈوکیٹ، ماسٹر فضل معبود شاکر، ماسٹر حسین شاہ اور راقم نئے نئے ایم اے (اردو) سے فارغ ہوئے تھے۔ مجھ عامی کے علاوہ درجِ بالا چاروں یار جماعت اسلامی کے ہم خیال بھی تھے۔ اسی لیے ان کی گاڑھی چھنتی تھی۔ بقول کمشنر یہ اک رُباعی کی مانند تھے۔ جب کہ میرے اڑنگے سے یہ رباعی مخمس بن گئی۔ اُن دنوں ہم خوب کتابیں پڑھا کرتے تھے۔ باہم ملنے پر اُن پہ خوب بحث بھی ہوا کرتی تھی۔ کبھی کبھار ایک دوسرے کے ہاں رات گزارنے بھی چلے جایا کرتے۔ کیفیت اس شعر جیسی ہوتی: 
اِک رات میرے گھر کوئی مہمان رہا تھا 
خوشبو میرے کمرے سے ابھی تک نہیں جاتی 
انہی درویشوں میں آج ہم فضل معبود شاکرؔ کی بات کریں گے، جو میرے ہمراہ کئی بار پبلک سروس کمیشن کا امتحان دینے بھی گیا۔ ہم دونوں ہی امتحان پاس کرلیتے تھے۔ یہاں تک کہ انٹرویو بھی پاس کرلیا کرتے تھے، لیکن قسمت یاوری نہیں کرتی تھی۔ وہ آج سیکنڈری سکول ٹیچر ہے اور میں ایلمنٹری سکول کے ہیڈ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اُسے فیضؔ اور اقبالؔ پسند تھے، تو مجھے غالبؔ اور فرازؔ ۔ وہ آج شاعر ہے اور میں قلم گھسیٹ کالم نگار۔ 
اب ہم فلیش بیک تکنیک کے ذریعے تھوڑا سا ماضی میں جھانکتے ہیں۔ فضل معبود کے بچپن کا تو پتا نہیں، البتہ لڑکپن میں وہ خوب ’’پڑھاکو‘‘ ہوا کرتا تھا۔ محنتی، لائق، ملنسار اور مہمان نواز۔ اُس میں جو چیز سب سے اچھی تھی، وہ اُس کی انکساری تھی اور جو چیز سب سے بری تھی، وہ اُس کا شرمیلا پن تھا۔ صنفِ نازک کو آنکھ اُٹھا کر دیکھ پانے کی جسارت اُس میں نہ تھی۔ اگر بھول چوک سے کہیں کوئی نظر پڑ بھی جاتی، تو ’’سبحان اللہ‘‘ کہہ کر یہ شعر کہہ ڈالتے۔ 
اُٹھ گئی آپ نظر آنکھ ملائی تو نہ تھی 
بھول کہہ لو اسے دانستہ گناہی تو نہ تھی 
ایسے مواقع پہ جہاں وہ احمد ندیم قاسمی کی طرح ’’سبحان اللہ‘‘ کہتا ہم عطاء الحق قاسمی کی طرح ’’اِن شاء اللہ‘‘ بھی کہہ ڈالتے۔ یہاں مجھے امجد اسلام امجدؔ یاد آ رہے ہیں جن کے بارے میں یونس بٹ اپنی کتاب ’’شناخت پریڈ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’عورتوں کو ملنے سے پہلے جہاں دوسرے لوگ بال، ٹائیاں اور چشمے ٹھیک کررہے ہوتے ہیں۔ یہ نیت ٹھیک کررہا ہوتا ہے۔‘‘ یہی حال ہمارے فضل معبود شاکرؔ کا بھی ہے۔ اِک دفعہ میں اُسے ملنے اُس کے خوبصورت گاؤں ’’شالپین‘‘ گیا، جو جنگل کے پنیرے میں چھوٹی پہاڑیوں، جھرنوں اور ندیوں میں گھرا اِک خوبصورت گاؤں ہے۔ اُس نے مجھے اپنی خوبصورت اردو نظم سنائی، جس میں ندی کے پار لہراتے رنگین آنچل اور آنچل والی الھڑ دوشیزہ کا جادوئی حسن بڑے دلکش اور سحر کن انداز میں بیان کیا گیا تھا۔ اخترؔ شیرانی کے طرز کی یہ محاکاتی نظم سننے کے بعد میں نے اُسے کہا: ’’کبھی ندی سے پار جانے کی ہمت بھی کی ہے‘‘ شرمیلے انداز میں ہلکی مسکان کے ساتھ نظریں نیچے کئے نفی میں سر ہلانے لگ گیا۔ 
یہ تھے ہمارے نوجوانی کے فضل معبود شاکرؔ ، جو اَب جوان ہونے کے بعد پختگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ماتھے کی شریر لٹ جو جبیں پہ آنکھ مچولی کھیلا کرتی تھی، اَب اُڑ چکی ہے جس سے پیشانی کا ہلکا چاند نظر آنے لگ گیا ہے۔ فٹ بال کی طرح گول چہرہ اب بھی خوبصورت ہے لیکن ہلکی داڑھی نے اس کی جاذبیت قدرے چھپا رکھی ہے۔ گالوں کا چمکیلا پن قدرے کم ضرور ہوا ہے، لیکن اُبھار اب بھی قائم ہیں۔ نشیلے نین اور بڑی بڑی غزال آنکھوں میں چمک اب بھی باقی ہے اور غضب کی مسکان، تو آج بھی غضب ڈھاتی ہے۔ اُس میں ایک مثبت تبدیلی یہ رونما ہوئی ہے کہ معلمی اور شاعری نے اُس کا شرمیلا پن دور کردیا ہے۔ اُس کی جان دار اور لوچ دار آواز کانوں میں رس گھولتی ہے۔ اُس کی غزل غضب ڈھاتی ہے، تو نظم رونگٹے کھڑے کردیتی ہے۔ اُس نے شاعری میں اردو سے پشتو کی طرف پینترا بدل لیا ہے، جو اُس کے لیے اچھا شگون ہے۔
اِک عرصے سے میری خواہش تھی کہ اُس پہ کوئی تحریر لکھوں لیکن آج، کل، پرسوں کرتے اتنا عرصہ گزر گیا۔ میں اُس کی کتاب کا منتظر تھا لیکن معلم بے چارے کے پاس ہوتا ہی کیا ہے کہ کتابیں چھاپتاپھرے؟ آج ہم اُس کے بکھرے کلام ہی سے چند خوشے اُچک کر قارئین کی نذر کریں گے۔ لکھتے ہیں: 
پیغلو دَ حسد نہ دَ وادہ پہ کور کی اووئیل 
دغی خاپیرئ جینئی پردئ جامی اغوستی دی 
اس خوبصورت شعر میں اگر اِک طرف حسد کی آگ میں جلنے کی بات ہے، تو دوسری طرف غربت کی چکی میں پسی اِک درد ناک حقیقت بھی شعر کی اکائی میں پروئی گئی ہے۔ 
شاکرؔ لفظوں کا جادوگر ہے۔ چنیدہ الفاظ، تراشیدہ مصرعے اور انہونی تراکیب آپ کے کلام کی جان ہیں۔ ذرا منفرد ترکیب ملاحظہ ہو: 
ستا د جفا د سر ویختہ کہ لا سپین شوی نہ وی 
زما خو ہم میوے د صبر لا رنگ نہ دے کڑے 
مزید لکھتے ہیں: 
منصب دے کہ نسب دے کہ پوستکے دے بے کار 
خائستہ وی ہغہ خلق، چی خائستہ وی پہ کردار
اور یہ بھی کہ: 
پہ رُخسار کہ ئے نور زائے د غوڑو نشتہ 
دے تہ اووائی چی نور پیروی نہ خوری 
اُس کا ماضی ہی اُس کا اثاثہ ہے۔ وہ بچپن اور لڑکپن کے دور کو نہیں بھولتا۔ اُسے ماضی کی حسیں یادیں کبھی تڑپاتی تو کبھی رُلاتی ہیں۔ اسی تناظر میں وہ ایسے ایسے شعر بھی تخلیق کر ڈالتا ہے: 
دَ شاکر دَ زڑگی سرہ تہ می چرتہ نہ ہیریگے
ستا سودا او ستا یادونہ لکہ ساہ راسرہ گرزی 
مزید لکھتے ہیں کہ: 
دَ چا تصویر، دَ چا رومال، دَ چاخطونہ ساتو 
مونگ دَ وڑمبو محبتونو ٹول یادونہ ساتو 
اور یہ بھی کہ 
زمونگ تر مینزہ داسے ہیس لویہ خبرہ نہ وہ 
داچی خورہ شوہ دا خبرہ خو د سرہ نہ وہ 
یہ رومان طبع اور نازک جذبوں والا شاعر جب اپنے داخل سے نکل کر خارج پہ نظر ڈالتا ہے، تو اُس کا حساس دل کرچی کرچی ہوجاتا ہے۔ وہ ملکی حالات اور پختونوں کی تباہی کو نہیں دیکھ سکتا۔ اسی لیے تڑپ کر کہتا ہے کہ
مونگ دَ بام خوندونہ، نہ دَ گودر رنگ لیدلے 
مونگ خو چی سترگی غڑولی دی مونگ جنگ لیدلے 
اسی تناظر میں مزید لکھتے ہیں: 
ما د وسلو پہ نشہ مستو خلکو زور لیدلے 
وس د ٹوپکو تمانچو نہ زما ویرہ کیگی 
ما دَ آدم د زوی وحشت پہ سترگو ولیدلو 
د دی انسان د ارادو نہ زما ویرہ کیگی 
بت کا استعارہ باندھتے ہوئے آج کے حکمران کی کچھ اس طرح تصویر کھینچتے ہیں: 
بے مینے، بے جذبو نہ یو انسان دے لکہ بت 
زما پہ نصیب داسے یو جانان دے لکہ بت 
پہ چغو پہ نارو می ورتہ ھسے سرکدو شو 
ھیس ناوری زما داسے حکمران دے لکہ بت 
طوالت کے خوف سے ہم قلم کی باگ یہیں کھینچتے ہوئے اُن کے دیگر موضوعات اور نظم پہ بحث نہیں کریں گے۔ یہ کبھی اگلی نشست پہ اُٹھا رکھتے ہیں۔ 
یار زندہ صحبت باقی۔ 
اُن کے اس ’’شاکرانہ‘‘ شعر کے ساتھ اجازت: 
د خدائی نہ چی سہ غواڑی نو زما د پارہ غواڑی 
ھغہ زما دردونہ ہم پہ خپل زڑہ کی رانغاڑی