پشاور()ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص کیلئے خواجہ سرائوں کی سکریننگ نہ کرنے سے متعلق انکوائری میں شکایت کنندہ نہ ہونے پر معاملہ ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق سکریننگ نہ کرنے کی چھان بین کیلئے کمیٹی کے پاس کسی قسم کے تحریری شواہد نہیں سوشل میڈیا پراڑائی گئی پوسٹ پر محکمے نے انکوائری تشکیل دی جس میںصرف متعلقہ افسران کے بیانات ہی قلمبند کئے گئے ہیں دوسری طرف محکمہ صحت کو اعداد وشمار میں تضاد اور غیر رجسٹرڈ خواجہ سرائوں تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے متاثرہ خواجہ سرائوں سے ایچ آئی وی ایڈز شہر کے نوجوانوں میں پھیل رہا ہے جبکہ ایچ آئی وی ایڈز کنٹرول پروگرام کے پاس24 خواجہ سرائوں کی ایچ آئی وی ایڈز کے علاج کیلئے رجسٹریشن ہوئی ہیں اتنی بلند شرح سامنے آنے کے بعد حکومت نے خواجہ سرائوں کے حقوق کیلئے کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیم کی درخواست پر صوبائی حکومت نے محکمہ صحت کو صوبہ بھر میں خواجہ سرائوں کی سکریننگ کیلئے ہدایات دیں تاہم اس سلسلے میں شکایات سامنے آئی کہ ایچ آئی وی ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے انکے ساتھ سکریننگ کے معاملے پر تعاون نہیں کیا جارہا شکایات کی چھان بین کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ انکوائری کرانے کیلئے کی گئی شکایت کا کوئی تحریری ثبوت نہیں جس کی وجہ سے شکایت کنندہ کے بیانات قلمبند کرنا محکمہ صحت کیلئے نا ممکن ہوگیا ہے ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے علاوہ شکایت کنندہ کا کوئی ریکارڈ نہیں جس کے باعث انکوائری مکمل کرنے میں تکنیکی مسائل کا سامنا ہوگا اس سلسلے میں ایچ آئی وی ایڈز کنٹرول پروگرام کے ذرائع نے بتایا کہ صوبے میں سات مقامات پر ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص اور مفت علاج کے مراکز قائم کئے گئے ہیں جبکہ ایل آر ایچ میں قیدیوں اور خواجہ سرائوں کو ترجیحی بنیادوں پر تشخیص اور علاج کی سہولت کیلئے خصوصی بندوبست کیا گیا ہے جہاں پر ہر شہری کو یہ سہولت مفت دی جارہی ہے لیکن خواجہ سرائوں کی تعداد کے حوالے سے تضاد ہیں نادرا کے پاس ایک خواجہ سراء اور سوشل ویلفیئر کے پاس 480خواجہ سراء رجسٹرڈ ہیں جبکہ غیر سرکاری تنظیم یہ تعداد ہزاروں میں بتارہی ہیں جس کے باعث ایچ آئی وی کیلئے سکریننگ اورعلاج کی فراہمی ممکن نہیں ہورہی ذرائع نے بتایا کہ خواجہ سرائوں کی قیام گاہوں پر بھی سکریننگ کا انتظام کیا گیا جس کیلئے اقبال پلازہ میں سکریننگ کی منصوبہ بندی کی گئی لیکن وہاں پر پولیس کے آپریشن کی وجہ سے سکریننگ کا سلسلہ موقوف کرنا پڑا ۔