کامریڈ امجد علی سحابؔ 
پروفیسر انور جمال اپنی کتاب ’’اَدبی اصطلاحات‘‘ مطبوعہ ’’نیشنل بُک فاؤنڈیشن‘‘ (اشاعتِ چہارم، مارچ 2017ء) کے صفحہ نمبر 29 پر رقم طراز ہیں کہ آواگون (Metempsychosis) ایک مذہبی اصطلاح ہے۔ اس کا لفظی مطلب ’’آنا اور جانا‘‘ ہے۔ 
پروفیسر صاحب آگے لکھتے ہیں: ’’ہندو مت میں روح موت کے بعد کسی دوسرے وجود میں آجاتی ہے۔ یہ تصور آریاؤں سے لیا گیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ روح نیک یا بد ہونے کے سبب نیا قالب ڈھال لیتی ہے۔ نیک روح ہو، تو اچھے قالب میں اور اگر بد ہو، تو بُرے جسم میں چلی جاتی ہے۔‘‘ 
ان کے مطابق ’’آواگون‘‘ ہندوؤں کا بنیادی عقیدہ ہے۔ 
دوسری طرف وکی پیڈیا کے مطابق آواگون یا تناسخ (Reincarnation) کا مطلب ’’روح کا ایک قالب سے دوسرے قالب میں جانا‘‘ ہے۔ 
اس حوالہ سے آگے درج ہے: ’’تناسخ‘‘ کا لفظ اردو میں عربی زبان سے آیا ہے اور ’’نسخ‘‘ سے ماخوذ ہے۔ اس سے بنیادی طور پرمراد دوبارہ پیدا ہونے کی ہوتی ہے۔ اسی تصور کی وجہ سے ’’نسخ‘‘ (نقل کرنے) سے ’’تناسخ‘‘ کا لفظ اس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے کہ ایک بار موت کے بعد وہ مرنے والی شخصیت (چاہے وہ انسان ہو یا کوئی اور جان دار) ایک مرتبہ پھر تجسیم حاصل کرلیتی ہے۔ 
متعدد اوقات اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ’’اہتجار‘‘ کا لفظ بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں اسے “Reincarnation” کہتے ہیں۔
وکی پیڈیا کے مطابق، تناسخ کا لفظ ’’حیات بعد الموت‘‘ سے ایک الگ تصور ہے جو عام طور پر ’’ابراہیمی ادیان‘‘ میں پایا جاتا ہے۔ علامہ قرطبی نے رافضیہ کے فرقوں میں سے ایک فرقہ ’’تناسخیہ‘‘ شمار کیا، جن کا عقیدہ ہے کہ ’’ارواح میں تناسخ ہوتا رہتا ہے۔ پس جو کوئی محسن اور نیکو کار ہو، اس کی روح نکلتی ہے اور ایسی مخلوق میں داخل ہوجاتی ہے جو اپنی زندگی کے ساتھ سعادت اندوز ہو رہی ہوتی ہے۔‘‘
جنتی زیور میں صفحہ 189 پر برزخ کے عنوان سے ’’عقیدہ 3‘‘ پر لکھا ہے: ’’یہ خیال کہ مرنے کے بعد روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے، خواہ وہ کسی آدمی کا بدن ہو یا کسی جانور کا جس کو فلاسفر ’’تناسخ‘‘ اور ہندو ’’آواگون‘‘ کہتے ہیں، یہ خیال بالکل ہی باطل اور اس کا ماننا کفر ہے۔‘‘
سوشل میڈیا پر ’’قیامت اور انسان‘‘ نامی صفحہ پراس حوالہ سے درج ہے: ’’تناسخ کے حامی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ انسانوں کے دو گروہوں کی روح دنیا میں دوبارہ پلٹ کر نہیں آتی۔ مذکورہ دو گروہوں میں پہلے وہ لوگ ہیں جو سعادت کی راہ میں کمال تک پہنچ گئے ہوں اور مر نے کے بعد کمال مطلق سے ملحق ہو تے ہیں۔ ان میں کوئی کمی نہیں پائی جاتی ہے، تاکہ وہ دوبارہ دنیا میں آکر تلاش و کوشش اور عمل کے ذریعہ اپنی گذشتہ زندگی کی کمی کی تلافی کریں۔
دوسرے گروہ سے مربوط وہ لوگ ہیں جو شقاوت وبدبختی کے انتہائی درجے پر پہنچے ہوں۔ یہ لوگ بھی دوبارہ دنیا میں پلٹ کر نہیں آتے۔ کیوں کہ یہ لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اس قدر گمراہی و بدبختی سے دوچار ہو تے ہیں کہ ان پر سعادت کا راستہ مسدود ہو تا ہے اور ابدی زوال سے دوچار ہو جاتے ہیں اور دو بارہ دنیا میں آکر اپنی گذشتہ زندگی کی برائیوں کی سعی وتلاش اور عمل سے تلافی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تاکہ وہ سعادت وکمال کے نسبتی اور محدود درجہ تک پہنچ جائیں۔
ان کا اعتقاد ہے کہ تناسخ اور پلٹ کر دوبارہ دنیا میں آنا تیسرے گروہ سے مخصوص ہے، یعنی ’’متوسط گروہ‘‘۔ جو سعادت حاصل کرنے والے اور زوال و شقاوت سے دوچار ہو نے والے گروہ کے درمیان ہے۔ یہ لوگ جب دنیا سے رخصت ہو تے ہیں، تو ان کی روح دوبارہ دنیا میں پلٹ کر آتی ہے اور وہ اپنے مختلف اعمال کے تناسب سے مختلف صورتوں اور شکلوں میں دوبارہ دنیا میں جنم لیتے ہیں۔‘‘